وڈھ میں قبائلی تصادم میں نقصان کو اپنا نقصان سمجھتا ہوں۔ نواب اسلم رئیسانی

کوئٹہ: چیف آف سراوان سابق وزیر اعلی بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی کی قیادت میں وڈھ جانے والے مصالحتی جرگے کا فریقین سے مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا۔

نواب محمد اسلم رئیسائی نے فریقین سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ اب میں اپنے وفد کے ہمراہ وڈھ سے واپس خضدارجارہا ہوں، کل واپس وڈھ آئیں گے فریقین کو سیز فائر پر آمادہ کرلیا ہے۔ اُن کے ہمراہ قبائلی جرگہ میں نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی، نواب زادہ رئیس رئیسانی، سمیت جھالاوان اور سراوان کے معتبرین بھی شامل ہیں۔

اسلم رئیسائی نے کہا کہ میں اور وفد فوٹو سیشن کے لئے نہیں بلکہ خون خرابے کو روکنے کے لئے یہاں آئے ہیں کیونکہ یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ علاقے میں خوان خرابہ ہو اور لوگوں میں نفرت بڑھے، وڈھ میں قبائلی تصادم میں نقصان کو اپنا نقصان سمجھتا ہوں میری اور ساتھیوں کی کوشش ہے کہ افہام تفہیم سے قبائلی تنازعہ کو حل کریں۔

یہ بھی پڑھیں:

سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا واقعہ، مولانا فضل الرحمان نے ملک گیر احتجاج کی کال دیدی

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ قوم اس نوعیت کے جھگڑوں کی متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ پہلے ہی بلوچ قوم مختلف قبائلی تنازعات میں سینکڑوں کی تعداد میں اپنے لوگوں کو موت کی آغوش میں بھیج چکی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں لاکھوں لوگ تنازعات کی وجہ سے اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر کے مختلف علاقوں اور مقامات پر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ ہم بلوچ قوم کا مستقبل تابناک دیکھنا چاہتے ہیں۔