پاکستان انڈونیشیا آزاد تجارتی معاہدہ اہم سنگ میل ثابت ہوگا، ڈاکٹر جون ،ناصر مگوں

کراچی: انڈونیشیا کے قونصل جنرل ڈاکٹر جون کونکورو ہیڈینیرات نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ یقینی طور پر ایک بہت بڑا اقدام ہوگا۔

یہ بات انہوں نے ایف پی سی سی آئی کی پاکستان انڈونیشیا بزنس کونسل کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں، سابق صدر میاں انجم نثار، ایف پی سی سی آئی کی پاکستان انڈونیشیا بزنس کونسل کے چیئرمین عابد نثار، سابق نائب صدر مسز نازلی عابد، شبیر منشا چھرہ، سہیل نثارو دیگر بھی شریک تھے۔

انڈونیشین قونصل جنرل نے پاکستانی تاجر برادری کو مشورہ دیا کہ انڈونیشیا میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایسی مصنوعات کی فہرست بنائیں جو دوطرفہ تجارت میں اضافے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

انہوں نے آئی ٹی کے شعبے میں باہمی تعاو ن کو بڑھانے کے لیے دستیاب مواقعوں کو تلاش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اوراس حوالے سے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

ٰٖٓ ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے کہا کہ پاکستانی تاجربرادری دوونوں ممالک کے مابین آزاد تجارتی معاہدے کو جلد ازجلدطے پانے کی خواہش مندہے جس سے یقینی طور پر دونوں ممالک کی معیشت کو فوائد حاصل ہوں گے اور باہمی تجارت کو بھی فروغ ملے گا نیز تجارت واقتصادی تعاون پاکستان ، انڈونیشیا دونوں کے لیے اہم ثابت ہوگا۔

انہوں نے انڈونیشیا کے چیمبرز کے ساتھ مستحکم رابطے استوار کرنے اور ہرسطح پر تعاون پر بھی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی تاجربرادری کو پائیدار اور دوطرفہ فوائدکے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات کومزید بہتر بنانا ہوگا۔

مزید پڑھیں:عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 80 کروڑ ڈالر قرض جاری کرنے کی منظوری دے دی

ایف پی سی سی آئی کی پاکستان انڈونیشیا بزنس کونسل کے چیئرمین عابد نثار نے انڈونیشیا کے قونصل جنرل کی بزنس کونسل کے پہلے اجلاس میں شرکت پر مسر ت کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر جون کونکورو ہیڈینیرات کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے دو طرفہ تجارت کو تیزی سے فروغ دینے کے مواقعوں کو اجاگر کرتے ہوئے بنیادی امور پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اپنے وسیع تجربے کی بنیاد پر کچھ ترجیحی شعبوں کی نشاندہی بھی کی۔

عابد نثار نے مزید کہاکہ ایف پی سی سی آئی انڈونیشیا کے ساتھ ایف ٹی اے کا منتظر ہے جس کے نتیجے میں دونوںممالک کے درمیان بہتر اور وسیع تر کاروباری، صنعتی اور تجارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اوراس سے پاکستان کے ساتھ ساتھ برادر ممالک کی قومی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔