بجٹ کو حقیقت میں عوام دوست بنایا جائے

ندیم مولوی


کالم نگار معاشی تجزیہ کار ہیں۔

 چاہے گھر ہویا حکومت ہو کوئی بھی بجٹ کو سمجھتا نہیں ہے اور بجٹ کے مطابق پلاننگ کا بھی فقدان نظر آتا ہے، پاکستان میں روایات کے مطابق ہر شخص ماضی کا رونا روتا دکھائی دیتا ہے اور اگر کچھ اچھا ہوتا ہے تو اپنی تعریفوں کے پل باندھتا ہے۔

زندگی ہو یا کاروبار ہو یا حکومتی سطح پر کوئی کام کرنے ہوتے ہیں تو ہم بہت ہی کم مدتی سوچ اپناتے ہیں۔کسی بھی کامیابی کیلئے ماضی اورحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

قیام پاکستان سے آج تک ہمارا بجٹ خسارے میں ہی رہا ہے اور ہرسال بجٹ بنانے والے یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم نے عوام دوست بجٹ تیار کیا ہےجس سے ملک میں مہنگائی ختم ہوجائیگی اور خوشحالی آئیگی لیکن پاکستان بننے سے اب تک ہم نے کسی کو کبھی خوش دیکھا نہ مطمئن دیکھا ہے مگر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنا نہیں چھوڑا۔

آج جبکہ معیشت ایک ایسے مشکل حالات میں کھڑی ہے جس میں اگر ہم نے دوراندیشی سے کام نہ کیا تو آگے آنے والی نسل کبھی بھی مشکلات سے نکل نہیں سکے گی اور ملک کو تباہی سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔

پاکستان میں حالیہ جتنی ترقی ہوئی ہے ،کورونا وائرس کی وجہ سے تمام ایشیائی ممالک میں لاک ڈاؤن ہوا اور بھارت جو دنیا کی تیسری بڑی معیشت کہلاتا تھا وہ تباہ ہوچکا ہے، بھارت کے 70 فیصد کارخانے کورونا کی وجہ سے بند ہیں جس کی وجہ سے مغربی دنیاکے تمام آرڈرز پاکستان اور دیگر ممالک جوکہ کورونا کے باوجود اپنے کارخانے چلارہے تھے ان کی طرف چلے گئے ، یہ ایسی مثال ہے جیسے ایک محلے میں تمام پرچون کی دکانیں کورونا کے دوران بند تھیں لیکن ایک دکاندار نے دکان کھلی رکھی تو تمام خریدار اس کے پاس چلے گئے تو اس کے فائدے کو ہم اس دکان کی ترقی نہیں کہیں گے بلکہ ایک حادثاتی پیشرفت ہے۔

پاکستان کی فلاح کیلئے اس کی عوام کے بارے میں سوچنا کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے جس کیلئے حکومتی ادارے تشکیل دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ عوام کی سہولت کیلئے کام کریں۔پاکستان کے بجٹ میں ہمیشہ سرکاری ملازمین اور حکومت اپنی سیاسی مفادات کو دیکھتی ہے، سرکاری اداروں کے کارکنوں کی ہرسال تنخواہ بڑھائی جاتی ہے مگر 80فیصدعوام کی تنخواہوں کو بڑھانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے بلکہ ان سرکاری ملازموں کی تنخواہوں و مراعات کا بوجھ عوام پر ٹیکسوں کی صورت لاد دیا جاتا ہے۔

آج کے دور میں کارخانے ترقی کررہے ہیں جبکہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے، غریب کے روزگار کو کوئی تحفظ نہیں ہے اور مختلف ادارے اور فنڈز جو غریبوں کیلئے دیئے جاتے ہیں اس پر عملاً کام نہیں ہوتا۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان میں چھوٹے کاروبار کرنیوالوں کو سہولت دینا زیادہ سود مند ثابت ہوسکتا ہے، ان کے کاوربار کو منافع بخش بنانے کیلئے شرح سود ، بجلی کی قیمت کم اور ایسی سہولیات دی جانی چاہئیں جس سے ان کا کاروبار چلے اور عوم کے اوپر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے ۔

بھارت کے حالیہ بجٹ میں 60 سے زائد عمر لوگوں کو ٹیکس ریٹرن فائل کرنے سے مستثنیٰ قرار دیدیا گیا ہے اور ان کی سرمایہ کاری پر کوئی ٹیکس بھی نہیں لگایا جائیگا حالانکہ بھارت ہمارا دشمن ملک ہے لیکن ہمیں دشمن کی اچھی پالیسیوں کو مدنظر رکھ کر عوام دوست پالیسیاں ترتیب دینی چاہئیں اور پاکستان میں بھی بجٹ میں حقیقی عوام دوست اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

سرکاری اداروں کو فروخت کرنے سے بہتر ہے کہ انہیں درست کیا جائے تاکہ وہ ادارے کم منافع کے ساتھ مسابقت کی فضاء کو پروان چڑھاسکیں اور حکومت کیلئے آمدنی کا ذریعہ بنیں تاکہ حکومت عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے آنیوالے دنوں میں کاروبار سے اپنا قرض کم کرسکے ۔