پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہندو برادری اپنا اہم مذہبی تہوار دیوالی مذہبی عقیدت اور روایتی جوش و خروش سے منا رہی ہے۔ روشنیوں کے اس تہوار کے موقع پر گھروں، مندروں اور گلی محلوں کو رنگ برنگی روشنیوں اور مٹی کے دیوں سے سجایا جا رہا ہے جبکہ مٹھائیوں کی تقسیم، تحائف کے تبادلے اور خاندانی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
دیوالی کو دیپاولی بھی کہا جاتا ہے جس کے معنی چراغوں کی قطار ہیں۔ ہندو مذہب کے اس قدیم تہوار کا بنیادی پیغام اندھیرے پر روشنی، برائی پر اچھائی اور مایوسی پر امید کی فتح ہے۔ یہ تہوار ہندو قمری تقویم کے مہینے کارتک میں منایا جاتا ہے اور عموماً اکتوبر یا نومبر میں آتا ہے۔
دیوالی کی مناسبت سے ہندو خاندان پہلے اپنے گھروں کی صفائی اور آرائش کرتے ہیں، جبکہ تہوار کی مرکزی رات گھروں اور عبادت گاہوں میں دیے روشن کیے جاتے ہیں۔ اس موقع پر دولت اور خوشحالی کی دیوی لکشمی کی پوجا بھی کی جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں آتش بازی اور خصوصی تقریبات کا اہتمام ہوتا ہے۔
بھارت کے مختلف علاقوں میں دیوالی کی تقریبات پانچ روز تک جاری رہتی ہیں، جن میں دھنتیراس، ناراکا چتردشی، دیوالی، گووردھن پوجا اور بھائی دوج شامل ہیں۔ ان دنوں کی اپنی مذہبی اور ثقافتی اہمیت ہے۔
دیوالی صرف ہندو برادری تک محدود نہیں بلکہ جین اور سکھ مذاہب کے پیروکار بھی اسے خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ جین برادری کے لیے یہ بھگوان مہاویر کے نروان کی یاد سے منسلک ہے جبکہ سکھ برادری اسے بندی چھوڑ دیوس کے طور پر مناتی ہے۔
بھارت کے علاوہ نیپال، ماریشس، سنگاپور، ملائیشیا، سری لنکا، فجی اور دیگر ممالک میں بھی یہ تہوار بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے۔ دیوالی کا پیغام محبت، امید، خوشحالی، باہمی احترام اور اچھائی کو فروغ دینا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








