امریکی ریاست مشی گن کے سینیٹ انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار 42 سالہ عبدل السید نے ریپبلکن حریف مائیک راجرز کو شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔ مصری تارکین وطن کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے عبدال السید امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے ہیں۔ ان کی کامیابی کو ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کے لیے بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
صحت عامہ کے شعبے میں خدمات انجام دینے والے عبدال السید اس سے قبل کسی منتخب عہدے پر فائز نہیں رہے۔ آٹھ سال قبل وہ مشی گن میں گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹک پرائمری کے دوران شکست کھا گئے تھے تاہم اس بار انہوں نے سینیٹ کی نشست حاصل کر لی۔
صحت، مہنگائی اور کارپوریٹ اثرورسوخ کے خلاف مہم
عبدال السید نے انتخابی مہم میں مہنگائی پر قابو پانے، عام خاندانوں کے اخراجات کم کرنے اور سیاست میں بڑی کمپنیوں کے اثرورسوخ کو محدود کرنے پر زور دیا۔ ان کے منشور میں میڈیکیئر فار آل کے تحت تمام شہریوں کو سرکاری سرپرستی میں صحت کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شامل تھا۔
اسرائیل پر تنقید اور انتخابی تنازعات
اسرائیل سے متعلق عبدال السید کا سخت مؤقف انتخابی مہم کا اہم موضوع رہا۔ صدر ٹرمپ اور ریپبلکن رہنماؤں نے ان کے مبینہ انتہا پسند تنظیموں سے روابط کے الزامات اٹھائے، تاہم ان دعوؤں کے حق میں مستند شواہد سامنے نہیں آئے۔ ڈیموکریٹس نے ان حملوں کو اسلام مخالف مہم قرار دیا۔
اپنی جماعت میں بھی سخت مقابلہ
عبدال السید کو ڈیموکریٹک پرائمری میں ہیلی اسٹیونز کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مرحلے پر بیرونی ذرائع سے تقریباً 60 ملین ڈالر خرچ ہوئے، جن میں اسرائیل نواز تنظیم اے آئی پی اے سی (AIPAC) کی جانب سے ان کی مخالفت میں تقریباً 30 ملین ڈالر کی رقم بھی شامل تھی۔ ہیلی اسٹیونز نے یکم نومبر کو ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔
ڈیٹرائٹ کے سیاہ فام ووٹرز اور نواحی علاقوں کے یہودی ووٹرز کی حمایت حاصل کرنا بھی عبدال السید کے لیے اہم چیلنج تھا۔ سابق صدر باراک اوباما اور سابق نائب صدر کملا ہیرس نے ڈیٹرائٹ میں ان کے ساتھ انتخابی مہم چلائی۔
برنی سینڈرز اور اوکاسیو کورٹیز کی حمایت
سینیٹر برنی سینڈرز اور رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے ان کی حمایت کی۔ ان کی کامیابی کو 2028 کے صدارتی انتخابات سے قبل ترقی پسند سیاست کے لیے اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کی حمایت بھی راجرز کو کامیاب نہ بنا سکی
مائیک راجرز 2024 میں بھی مشی گن کی سینیٹ نشست کا انتخاب معمولی فرق سے ہار چکے تھے۔ سابق کانگریس رکن اور انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ راجرز کو اس بار ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی، تاہم ایران جنگ، بڑھتی ایندھن قیمتوں اور امریکی تجارتی پالیسیوں پر عوامی خدشات ان کے لیے مشکلات بنے۔
راجرز نے ستمبر میں ایران جنگ فوری ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا تاکہ کاروباری اداروں اور صارفین کے اخراجات کم کیے جا سکیں۔
عبدال السید کی کامیابی نے امریکی سیاست میں مسلمان نمائندگی کی نئی تاریخ رقم کرنے کے ساتھ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کو بھی مضبوط کیا ہے جبکہ 2028 کے صدارتی انتخابات کے تناظر میں ان کی کامیابی کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








