کراچی میں رشتے سے انکار پر لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو نازیبا تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے کے مقدمے میں عدالت نے ملزم اویس ضیا کو مجموعی طور پر 9 سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے مجرم پر ایک لاکھ 35 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ متاثرہ لڑکی کو 10 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران جج گلریز میمن نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ملزم کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے اسے کمرہ عدالت سے گرفتار کرکے جیل بھیجنے کا حکم دیا۔
استغاثہ کے مطابق ملزم متاثرہ لڑکی کا محلے دار تھا اور اس کے گھر آنا جانا تھا۔ ملزم نے لڑکی کے لیے رشتے کی پیشکش کی تاہم اہل خانہ نے اس کے کردار اور رویے کی بنیاد پر انکار کردیا۔ مقدمے کے مطابق ملزم کے پاس لڑکی کی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز موجود تھیں جنہیں اس نے رشتے سے انکار کے بعد بلیک میلنگ اور دھمکانے کے لیے استعمال کیا۔
استغاثہ نے بتایا کہ ملزم نے واٹس ایپ کے ذریعے نازیبا مواد لڑکی کے والد اور دیگر رشتے داروں کو بھی بھیجا۔ اسے 2021 میں اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔
متاثرہ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اسے دھمکاتا تھا کہ وہ اس کی شادی یا منگنی نہیں ہونے دے گا۔ دوسری جانب وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ خاندانی رنجش اور مالی تنازعات کا نتیجہ ہے اور دونوں کے درمیان تعلق باہمی رضامندی سے تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ جرح کے باوجود متاثرہ لڑکی کا بیان مضبوط رہا۔ فیصلے کے مطابق ذاتی تصاویر کو دھمکی، ہراسانی اور بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا قابل سزا جرم ہے جبکہ فرانزک رپورٹ نے گواہوں کے بیانات کی تائید کی۔ ملزم کے خلاف مقدمہ سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر نے درج کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








