ورلڈ بینک کے آزاد ادارے انڈیپنڈنٹ ایویلیوایشن گروپ (IEG) نے 93 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے سندھ سولر انرجی پراجیکٹ کی فائنل ایویلیوایشن رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں منصوبے کی مجموعی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اسے غیر تسلی بخش کا درجہ دیا گیا ہے۔
ورلڈ بینک کی جائزہ رپورٹ کے مطابق، طویل المدتی نوعیت کا یہ منصوبہ مقررہ ڈیڈ لائن یعنی جولائی 2025 تک بھی اپنے بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
بڑے اہداف اور زمینی حقائق کا بڑا فرق
دستاویزات کے مطابق سندھ سولر انرجی پراجیکٹ کا بنیادی ہدف بڑے پیمانے پر 400 میگاواٹ بجلی پیدا کرنا اور ڈسٹریبیوٹڈ سولر سسٹمز کے ذریعے مزید 20 میگاواٹ کی صلاحیت حاصل کرنا تھا تاہم انتظامی رکاوٹوں اور دیگر مسائل کے باعث مجموعی طور پر صرف 35 میگاواٹ کی سولر جنریشن صلاحیت ہی حاصل کی جا سکی۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بڑے سولر پارکس کی راہ میں زمین کی بروقت الاٹمنٹ میں تاخیر، گرڈ اسٹیشن سے جڑے امور کی منظوری کے مسائل، وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطے کا فقدان اور تکنیکی صلاحیت کی کمی جیسی بڑی رکاوٹیں حائل رہیں۔
کن مقامات پر کام رکا؟
منصوبے کے تحت کراچی اور جامشورو میں تین سولر پارکس کے لیے مقامات تیار کیے گئے تھے۔ کراچی کے علاقوں دیہہ ہلکانی، بن مراد اور دیہہ مٹھیگھر جبکہ جامشورو کے منجھند میں یہ پلانٹس لگائے جانے تھے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی کے مخصوص مقامات پر نجی کمپنیوں کے ذریعے تعمیراتی کام کا آغاز تو ہوا لیکن بعد میں یہ عمل تعطل کا شکار ہو کر رک گیا جبکہ جامشورو کے منجھند پلانٹ کے لیے گرڈ کی منظوری میں تاخیر کے باعث بولی کا مرحلہ بھی شروع نہ ہو سکا اور بالآخر یہ منصوبہ منسوخ کرنا پڑا۔
روف ٹاپ سولر اور عوامی ریلیف کا مثبت پہلو
پراجیکٹ کے ڈسٹریبیوٹڈ سولر کمپوننٹ کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔ سرکاری عمارتوں پر 20 میگاواٹ کے ہدف کے مقابلے میں 35 میگاواٹ کے روف ٹاپ سولر سسٹمز کامیابی سے نصب کیے گئے۔ اس کے علاوہ صوبے کے 33 اہم صحت مراکز کو سولرائز کیا گیا اور لوڈشیڈنگ سے نمٹنے کے لیے بیٹری اسٹوریج سسٹمز بھی لگائے گئے۔
اس سکیم سے مجموعی طور پر 10 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد کو بجلی کی بہتر سہولت ملی جو کہ مقررہ ہدف کا قریباً 84 فیصد ہے۔ خواتین کی سرپرستی والے گھرانوں کو ریلیف دینے کے معاملے میں یہ پراجیکٹ ہدف سے کہیں آگے رہا جہاں صرف 4 ہزار کے ہدف کے برعکس 76,241 خاندانوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔
مالیاتی پہلو اور مدت میں تاخیر
یہ منصوبہ جون 2018 میں منظور ہوا اور جون 2019 میں فعال ہوا۔ اصل شیڈول کے مطابق اسے ستمبر 2023 میں مکمل ہونا تھا، لیکن انتظامی مسائل اور کورونا وبا کی وجہ سے اس کی مدت میں تقریباً 22 ماہ کی توسیع کی گئی اور یہ جولائی 2025 تک جاری رہا۔
منصوبے کی ابتدائی تخمینہ لاگت 105 ملین ڈالر تھی (جس میں 100 ملین ڈالر ورلڈ بینک کا کریڈٹ اور 5 ملین ڈالر سندھ حکومت کا حصہ تھا)۔ شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ کے باعث ورلڈ بینک کی فنانسنگ کم ہو کر 93 ملین ڈالر رہ گئی جبکہ سندھ حکومت بھی اپنے وعدے کے 5 ملین ڈالر کے مقابلے میں صرف 2 ملین ڈالر ہی فراہم کر سکی۔
رپورٹ کے آخر میں مستقبل کے لیے یہ سفارش کی گئی ہے کہ صوبائی سطح کے توانائی منصوبوں میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اچھے تال میل اور واضح رابطہ کاری کا میکانزم بنایا جائے تاکہ گرڈ اور دیگر قانونی اجازتیں وقت پر مل سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








