خیبر پختونخوا میں 4 ارب 29 کروڑ گیس چوری! کون کون ملوث؟ حکام نے سب بتادیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 4 ارب 29 کروڑ 40 لاکھ روپے مالیت کی گیس چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ صوبے میں گیس کے مجموعی نقصانات کی شرح گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں بھی بڑھ گئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوبی اضلاع میں گیس چوری سے ہونے والا مالی نقصان اوسطاً 35 کروڑ 78 لاکھ روپے ماہانہ بنتا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 1 کروڑ 18 لاکھ روپے مالیت کی گیس ضائع یا چوری ہونے کا تخمینہ ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں گیس کے نقصانات کی شرح مالی سال 2024-25 کے مقابلے میں تقریباً 3.5 فیصد زیادہ رہی۔

گیس حکام کا صوبائی حکومت پر عدم تعاون کا الزام

جنوبی اضلاع میں گیس کی فراہمی اور نقصانات سے متعلق حکام کا موقف ہے کہ گیس چوری کی روک تھام میں صوبائی حکومت کی جانب سے مطلوبہ تعاون نہ ملنے کے باعث صورتحال پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

گیس حکام نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ بعض سیاسی شخصیات کی مبینہ سرپرستی کے باعث گیس کے غیرقانونی استعمال اور چوری کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کرک میں غیرقانونی کنکشن کے دوران دھماکا

دوسری جانب ضلع کرک میں نشپا کے قریب گیس پائپ لائن سے مبینہ طور پر غیرقانونی کنکشن حاصل کرنے کی کوشش کے دوران دھماکا پیش آیا۔

واقعے کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

حکام کے مطابق واقعے کی مزید تفصیلات اور گیس پائپ لائن سے غیرقانونی کنکشن کی کوشش کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

Related Posts