پر اسرار بیماری سے خواتین و بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق! دیر کے عوام خوفزدہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

 خیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر کی تحصیل آدینزئی کے پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں پراسرار بخار نے تباہی مچادی ہے جس کے باعث گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ درجنوں مریضوں کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں پشاور اور سوات کے بڑے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع اور رہائشیوں کے مطابق یونین کونسل اسبنڑ اور یونین کونسل خانیور کے دیہات بریمکی، شادم اور شوڑشنگ میں پھیلنے والی اس ہلاکت خیز بیماری میں مبتلا افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور خون کے سفید خلیات (White Blood Cells) تیزی سے کم ہوجاتے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں چار خواتین، تین معصوم بچے اور دو نوجوان بھی شامل ہیں۔

علاقے کے مکینوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پراسرار مرض ہر سال اس سیزن میں سر اٹھاتا ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی پیشگی حفاظتی یا مستقل اقدامات نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کا موقف:

دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) لوئر دیر نے تصدیق کی ہے کہ دو نوجوانوں کو گردن توڑ بخار (میننجائٹس) کی تشخیص کے بعد پشاور کے اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ صورتحال کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے پشاور اور لوئر دیر سے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی خصوصی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔

ڈی ایچ او کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک فبرائل (Febrile) قسم کی بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے خدشات رکھتی ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر علاقے میں ملیریا اور ڈینگی کی روک تھام کے لیے اسپرے کر دیا گیا ہے جبکہ محکمہ صحت اور لائیو اسٹاک (پشمینہ و مال مویشی ڈیپارٹمنٹ) کی مشترکہ ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

دریں اثنا ڈپٹی کمشنر بشارت احمد کی خصوصی ہدایات پر محکمہ صحت نے متاثرہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ لگا دئیے ہیں جہاں سینکڑوں مریضوں کا طبی معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں تاکہ مرض کی اصل نوعیت کا حتمی پتہ لگایا جا سکے۔

Related Posts