جنوبی کوریا کے ساحلی شہر بوسان کی ایک تنگ نہر میں تقریباً تین ہفتوں سے پھنسی 3.5 میٹر لمبی شارک کو کھلے سمندر تک پہنچانے کی دوسری کوشش بھی ناکام ہوگئی جس کے بعد ریسکیو حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ شارک خود ہی سمندر کا راستہ تلاش کرلے گی۔
شارک کو “Bukangi” کا نام دیا گیا ہے اور اسے پہلی بار 18 ستمبر کو بوسان کے نارتھ پورٹ کی نہر میں دیکھا گیا تھا۔اس غیر معمولی منظر نے شہریوں اور سیاحوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی اب تک تقریباً 6 لاکھ افراد اسے دیکھنے کے لیے علاقے کا رخ کرچکے ہیں۔

ریسکیو ٹیم نے جمعہ کو شارک کو سمندر کی سمت لے جانے کے لیے 50 میٹر لمبا اور 6.8 میٹر بلند جال استعمال کیا۔ ایک کشتی جال کے درمیان والے حصے کو کھینچ رہی تھی جبکہ دونوں جانب موجود اہلکار پانی کے کنارے سے جال کو ہم آہنگ رفتار کے ساتھ آگے بڑھا رہے تھے تاکہ شارک کو کھلے سمندر کی طرف منتقل کیا جاسکے تاہم تقریباً دو گھنٹے کی کوشش کے باوجود شارک نہر سے باہر نہ نکلی۔

حکام نے چٹانوں میں بڑے جال کے پھنسنے کے خدشے کے باعث آپریشن روک دیا۔ جال کو نہر میں ہی ایک مقام پر نصب رکھا گیا ہے تاکہ شارک زیادہ دور اندرونی حصے کی جانب نہ جاسکے۔
In South Korea, a huge great white shark got stuck in a canal and became a star
A great white shark swam into a canal and ended up trapped. More than 600,000 people are already watching its rescue.
Local authorities are looking for a way to safely return the shark to the sea.
— NEXTA (@nexta_tv) October 2, 2026
اس سے قبل منگل کو بھی شارک کو پانی کے جیٹس سے لیس کشتیوں کے ذریعے سمندر کی جانب لے جانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ پانی کے بہاؤ سے بچتے ہوئے دوبارہ نہر کے اندر چلی گئی تھی۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فشریز سائنس کے سینئر محقق کم ہیون وو جو ریسکیو آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں کے مطابق پانی کی سطح میں تبدیلی اور بہاؤ کا رخ بدلنے کے باعث امکان ہے کہ شارک بالآخر خود ہی کھلے سمندر تک پہنچ جائے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ شارک ممکنہ طور پر برونز وھیلر نسل سے تعلق رکھتی ہے، جو عموماً گرم معتدل پانیوں میں پائی جاتی ہے اور جنوبی کوریا کے ساحلی علاقوں میں بھی دیکھی جا چکی ہے۔
شارک کی موجودگی نے بوسان کے شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں میں بھی غیر معمولی دلچسپی پیدا کردی ہے۔ نہر شہر کے مصروف نارتھ پورٹ میں بلند عمارتوں اور ایک بڑے ہائی اسپیڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھنے کے لیے واٹر فرنٹ پر جمع ہورہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








