پاکستان نے دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں مہلک اور غیر قانونی ہتھیاروں کے حصول اور ان کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ ایسے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکا جائے اور غیر قانونی اسلحے کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
قومی ذرائع ابلاغ کی ہفتہ کے روز کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی “آریا فارمولا” اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مشن کے قونصلر عاطف رضا نے کہا کہ دہشت گرد گروہوں کے پاس اربوں ڈالر مالیت کے وہ مہلک ہتھیار موجود ہیں جو افغانستان سے امریکی انخلاء کے دوران وہاں چھوڑ دیے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ہتھیار اب پاکستان کے شہریوں اور مسلح افواج کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں اور ان دہشت گرد تنظیموں کو ہمارے پڑوسی ملک کی طرف سے بیرونی امداد اور مالی معاونت بھی حاصل ہے۔
عاطف رضا نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں غیر قانونی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف مؤثر عالمی اقدام کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی ہتھیاروں تک رسائی فوری طور پر روکی جائے اور غیر قانونی اسلحے کی بلیک مارکیٹ کو بند کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو افغانستان سے سرگرم ہے جبکہ پاکستان کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ کے ہاتھوں جدید اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر بھی شدید تشویش ہے۔
عاطف رضا نے زور دیا کہ پاکستان ان اربوں مالیت کے غیر قانونی ہتھیاروں کی بازیابی کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں سے تعاون کا خواہاں ہے اور چھوٹے و ہلکے ہتھیاروں کے غیر قانونی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائے جانے کی ضرورت ہے۔