کرپٹو کرنسی کے زبردست حامی اور سابق ٹی وی میزبان وقار ذکا نے ممتاز اسلامی اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی اور ان کے ادارے سے کرپٹو کرنسی پر دئیے گئے فتوے پر سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کے سامنے لائیں کہ ڈیجیٹل کرنسیوں کو اسلامی شریعت کے مطابق ناجائز قرار دینے سے قبل کن کرپٹو ماہرین سے مشاورت کی گئی تھی۔ اس مطالبے کے بعد پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی شرعی حیثیت پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں وقار ذکا نے کہا کہ ان کی بات میں مفتی تقی عثمانی کے لیے نہ کوئی بے ادبی ہے اور نہ طنز، بلکہ وہ انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالیہ فتاویٰ کی بنیاد بننے والی تحقیق کے حوالے سے شفافیت ضروری ہے۔
وقار ذکا نے کہا کہ میری صرف ایک درخواست ہے کہ اپنی ویب سائٹ یا کسی بھی پلیٹ فارم پر یہ بتا دیں کہ آپ نے کن کرپٹو ماہرین کو ای میل کی، واٹس ایپ پر رابطہ کیا، دفتر بلایا یا زوم پر بات کی۔ کیا کسی نے مجھ سے رابطہ کیا؟ مجھے 2019 میں حکومتِ پاکستان نے ‘کرپٹو ایکسپرٹ’ کا خطاب دیا تھا اور میرا واٹس ایپ نمبر بھی سب کے پاس موجود ہے۔
To respected @muftitaqiusmani pic.twitter.com/fAAtwY2ibp
— Waqar Zaka (@ZakaWaqar) July 12, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ جن دیگر ماہرین سے انہوں نے رابطہ کیا، ان کا بھی دعویٰ ہے کہ فتویٰ جاری کرنے والے علما نے ان سے کبھی مشاورت نہیں کی۔ ان کے بقول، “پھر آخر کرپٹو کرنسی کی حقیقت سمجھانے کے لیے آپ نے کن لوگوں کو اہل سمجھا؟
وقار ذکا کا کہنا تھا کہ اکثر فتاویٰ سوال پوچھنے کے انداز پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق جو شخص مفتی سے سوال کرتا ہے وہ عموماً خود اس موضوع سے ناواقف ہوتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ کیا فیوچر ٹریڈنگ حرام ہے؟ کیا لیوریج حرام ہے؟ کیا فنڈنگ ریٹ حرام ہے؟ اس لیے 99 فیصد مواقع پر سوال ہی ایسا ہوتا ہے کہ جواب حرام کی صورت میں آتا ہے۔ میں کسی مفتی یا عالم پر الزام نہیں لگا رہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ممکن ہے علما نے اس معاملے میں روایتی بینکاری اداروں کی آراء پر زیادہ انحصار کیا ہو۔ وقار ذکا نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور مختلف کمرشل بینکوں کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں، جبکہ ان کے بقول دنیا بھر کے بینک کرپٹو کرنسی کے مخالف ہیں کیونکہ یہ ان کے کاروباری ماڈل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی ڈاکیا کبھی یہ نہیں کہے گا کہ ڈاک کا نظام ختم ہونا چاہیے۔ بینک کبھی نہیں چاہیں گے کہ آپ کا موبائل ہی آپ کا بینک بن جائے اور ہر چیز شفاف انداز میں چلنے لگے۔ اگر ایسا ہوا تو نوٹ چھاپنے، پرنٹنگ پریس اور بینک مینیجرز سمیت کئی روایتی نظام متاثر ہوں گے، پھر بینک کرپٹو کیوں پسند کریں گے؟
وقار ذکا نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارہ یہ بھی واضح کرے کہ اس معاملے میں کن بینکاروں سے مشاورت کی گئی اور کیا کسی آزاد کرپٹو ٹیکنالوجی ماہر کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا تھا۔
دوسری جانب مفتی محمد تقی عثمانی اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ کرنسیاں بنیادی طور پر تبادلے کا ذریعہ ہوتی ہیں اور انہیں منافع کمانے کے لیے قابلِ تجارت شے بنانا اسلامی معاشی فلسفے کے خلاف ہے۔انہوں نے بٹ کوائن کو “محض ایک خیالی عدد” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسے زیادہ تر قیاس آرائی اور بعض اوقات غیر قانونی لین دین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ کرپٹو کرنسی حلال ہے یا حرام، اس حوالے سے دنیا بھر کے اسلامی علما میں اب بھی اختلافِ رائے موجود ہے۔ بعض علما قانونی کرنسی کا درجہ نہ ہونے، غیر یقینی صورتحال (غرر) اور قیاس آرائی کو اس کی حرمت کی بنیاد قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض دیگر کا مؤقف ہے کہ تمام کرپٹو کرنسیاں یکساں طور پر ناجائز نہیں اور صرف حکومتی پشت پناہی نہ ہونے کی بنیاد پر انہیں حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








