پنجاب پولیس کی جانب سے مبینہ اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک سنسنی خیز اور انوکھا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں کرکٹ ٹیم میں بھائی کو میرٹ پر سلیکٹ نہ کیے جانے کا بدلہ لینے کے لیے مخالفین پر جھوٹا مقدمہ درج کروایا گیا مگر عدالت نے پولیس کی یہ سنگین سازش محض 24 گھنٹے کے اندر بے نقاب کرتے ہوئے کیس ہی خارج کر دیا۔
ماڈل ٹاؤن پولیس نے ایک اعلیٰ افسر کی ایما پر کرکٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت 5 افراد کے خلاف جعلی نمبر پلیٹ کا مقدمہ درج کیا تھا لیکن مقامی عدالت نے قرار دیا کہ پولیس الزامات کے حق میں ایک بھی قابلِ قبول ثبوت پیش کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
سلیکشن نہ ہونے پر ریجنل ایسوسی ایشن پر قبضے کی کوشش
مقامی صحافی عمران شفیق کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس پورے تنازع کی جڑیں سابق سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کے بھائی عبداللہ ہمدانی سے جڑی ہیں جو کرکٹ کے شدید شوقین ہیں اور ٹیم میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ انہیں بہاولپور میں لگائے گئے ایک کیمپ کے دوران ناقص کارکردگی کی بنیاد پر سلیکٹ نہیں کیا گیا۔ صحافی کے مطابق ایک بھائی سی پی او پنڈی ہو اور دوسرا بہاولپور کی ٹیم میں بھی سلیکٹ نہ ہو تو اسے ظلم سمجھا گیا اور اسی مبینہ ظلم کا بدلہ چکانے کے لیے روایتی پولیس گردی کو متحرک کیا گیا۔
لاہور پولیس کے SHO کی جانب سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر NCCIA کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی نے DIG آپریشنز لاہور فیصل کامران اور سابق CPO راولپنڈی خالد ہمدانی سے رابطہ کیا،
“مجھے پتا ہے تم یہ سب کس کے کہنے پر کر رہے ہو، ایسے معاملات سے باز رہیں”
صحافی عمران شفقت صاحب… pic.twitter.com/XOFwy4d8xy— Zeshan Noor 🇵🇰 (@ZeshanNoor007) July 12, 2026
جب بھائی سلیکٹ نہ ہو سکا تو مخالف پینل کو راستے سے ہٹانے اور اپنی پسند کی ریجنل ایسوسی ایشن لانے کی پلاننگ کی گئی تاکہ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔ مخالف پینل پر شدید دباؤ ڈالا گیا مگر وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہوئے۔
قذافی اسٹیڈیم میں پولیس کا ایکشن اور جعلی نمبر پلیٹ کا پرچہ
چونکہ موجودہ سسٹم کو ناں’ سننے کی عادت نہیں ہے اس لیے جیسے ہی مخالف پینل کے لوگ اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم پہنچے تو لاہور پولیس کے ایک ایس ایچ او کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ ان کاغذات جمع نہ کروانے دیں مگر امیدوار ڈٹ گئے اور بات سننے کو تیار نہ ہوئے۔ جب کوئی اور راستہ نہ ملا تو پولیس نے اپنی پرانی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے کاغذات نامزدگی جمع کروانے آنے والے ان 5 افراد پر گاڑی کی جعلی نمبر پلیٹ استعمال کرنے کا پرچہ کاٹ دیا۔ سابق سی پی او راولپنڈی جنہیں چند روز قبل ہی عہدے سے ہٹایا گیا ہے اور جن کے میرٹ کے قصے اب زبان زدِ عام ہیں ان کی سفارش پر یہ پرچہ درج کروایا گیا۔
ایف آئی اے افسر کی نامزدگی اور عدالت میں پولیس کی درگت
اس کہانی میں ٹوسٹ اس وقت آیا جب معلوم ہوا کہ جن 5 افراد پر پرچہ دیا گیا ان میں این سی سی آئی اے (سابقہ ایف آئی اے سائبر کرائم) کے ایک نامور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی شامل تھے۔
جب یہ بے بنیاد مقدمہ عدالت کے سامنے پیش ہوا تو جج نے پولیس کی سخت کلاس لی۔ ایف آئی آر میں جس سی سی ٹی وی فوٹیج اور سیف سٹی کے ریکارڈ کا دعویٰ کیا گیا تھا استغاثہ اور پولیس عدالت میں ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہ کر سکی۔ الزامات ثابت نہ ہونے پر عدالت نے اگلے ہی روز کیس کو مکمل بے بنیاد قرار دیتے ہوئے تمام ملزمان کو مقدمے سے ڈسچارج (بری) کر دیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایکشن اور سخت تنبیہ
اس ہائی پروفائل معاملے کا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی براہِ راست نوٹس لیا۔ انہوں نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران اور سابق سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی سے سیدھا رابطہ کیا۔ ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے ڈی آئی جی فیصل کامران کو سخت لہجے میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ سب کچھ کس کے اشارے پر اور کس کے کہنے پر کیا جا رہا ہے آئندہ اس قسم کے معاملات سے سخت گریز کیا جائے۔
قانونی ماہرین کی رائے
صرف 24 گھنٹے میں مقدمہ خارج ہونے کے اس واقعے نے پولیس فورس میں جاری اقربا پروری پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات جن کی بنیاد ہی کمزور ہو خاص طور پر گاڑیوں یا نمبر پلیٹس سے متعلق معاملات جہاں سی سی ٹی وی فوٹیج جیسے ٹھوس شواہد لازمی ہوتے ہیں وہ عدالتوں میں چند گھنٹے بھی برقرار نہیں رہ سکتے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








