منشیات کی سلطنت کا بادشاہ کون؟ خیبرپختونخوا میں 2600 ارب روپے کی چرس کی پیداوار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

خیبرپختونخوا کے تین اضلاع میں منشیات کی پیداوار سے متعلق ایک حیران کن رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبر، اورکزئی اور کرم ایجنسی میں سالانہ تقریباً 2.6 ٹریلین روپے مالیت کی چرس تیار کی جا رہی ہے۔

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی کی جانب سے کیے گئے سروے میں اس غیر قانونی کاروبار کے حجم اور پھیلاؤ سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق ان تین اضلاع میں تقریباً 295 مربع کلومیٹر رقبے جو 72 ہزار ایکڑ کے برابر ہے پر چرس اور بھنگ کی کاشت کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان علاقوں سے ہر سال تقریباً 35 لاکھ کلوگرام یعنی 3 ہزار 500 ٹن چرس حاصل ہوتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ منشیات کے اس کاروبار کا دائرہ اس حد تک پھیل چکا ہے کہ صرف ضلع خیبر سے مبینہ طور پر روزانہ تقریباً ایک ارب روپے مالیت کی منشیات اسمگل کی جاتی ہیں۔

یہ صورتحال ایک ایسے منظم نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہے جو خطے میں غیر قانونی تجارت کو مضبوط بنا رہا ہے اور بعض حلقوں کے مطابق ایک متوازی معیشت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

کارروائیاں جاری مگر سپلائی لائن برقرار؟

ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے منشیات کے خلاف کارروائیوں میں اضافے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تاہم ناقدین ان اقدامات کے نتائج پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹی سطح پر گرفتاریوں اور منشیات پکڑنے کے باوجود اصل سپلائی چین تاحال برقرار ہے۔

حالیہ کارروائی کے دوران پشاور ریجن کی ایکسائز پولیس نے ایک گاڑی سے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ کارروائی میں وحید شاہ نامی شخص کو بھی گرفتار کیا گیا جس پر 204 کلوگرام چرس اسمگل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔

ان کارروائیوں کے باوجود یہ سوال موجود ہے کہ منشیات کے پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے میں کامیابی کیوں نہیں مل رہی۔ مبصرین کے مطابق وقتاً فوقتاً ہونے والی گرفتاریاں اور ضبطگیاں اپنی جگہ لیکن بڑے کرداروں اور اصل سپلائی نیٹ ورک تک پہنچنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

پشاور یونیورسٹی کے سروے کے نتائج سامنے لانے والے صحافی عرفان خان کا کہنا ہے کہ مسئلے کے بنیادی عوامل کو تلاش کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی واضح کر رہے ہیں۔ اگر منشیات کی یہ صنعت 2.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہے اور صرف ایک ضلع سے روزانہ ایک ارب روپے مالیت کی منشیات باہر جا رہی ہے تو معاملہ صرف کارروائیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے نیٹ ورک کو سہارا اور تحفظ کہاں سے مل رہا ہے۔

سروے میں سامنے آنے والے حقائق اور منشیات کی مسلسل ترسیل اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ کاروبار مضبوط روابط اور منظم نظام کے باعث وقتی کارروائیوں کے باوجود جاری ہے۔

ماہرین اور مبصرین کے مطابق جب تک منشیات کے بڑے عناصر، ان کے مالی ذرائع اور پورے نیٹ ورک کو نشانہ نہیں بنایا جاتا اس غیر قانونی کاروبار کی پیداوار اور اسمگلنگ کے سلسلے کو مکمل طور پر روکنا مشکل ہوگا۔

Related Posts