ڈیجیٹل کرنسی وقت کی ضرورت ہے۔علمائے کرام کا جامعہ کراچی میں سیمینار سے خطاب

مقبول خبریں

کالمز

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

ڈیجیٹل کرنسی وقت کی ضرورت ہے۔علمائے کرام کا جامعہ کراچی میں سیمینار سے خطاب
ڈیجیٹل کرنسی وقت کی ضرورت ہے۔علمائے کرام کا جامعہ کراچی میں سیمینار سے خطاب

جامعہ کراچی میں شعبۂ اصول الدین کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی وقت کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی فرضی کرنسی نہیں بلکہ حقیقت ہے، دنیا ڈیجیٹل سسٹم کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی یونیورسٹی میں شعبۂ اصول الدین اور العصر فاؤنڈیشن کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار بعنوان ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی کی تکنیکی و شرعی حیثیت سے خطاب کے دوران چیئرمین شریعہ ایڈوائزری بورڈ بینک اسلامی ڈاکٹر مفتی ارشاد احمد اعجاز نے کہا کہ ہمیشہ تحقیق کی سطح قانون کی سطح سے اوپر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

جامعہ کراچی، مشترکہ گروپس کمیٹی کا وائس چانسلر آفس کے سامنے احتجاج

چیئرمین شریعہ ایڈوائزری بورڈ نے مزید کہا کہ اہلِ علم کو اس موضوع پر اپنی تحقیقات پیش کرتے رہنا چاہئے۔ ڈیجیٹل کرنسی کوئی فرضی کرنسی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اسے کچھ شرائط کے ساتھ جائز ہونا چاہیے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں مثبت کردار ادا کرے تاکہ نوجوانوں کی الجھن دور ہو۔

اس موقع پر رئیس کلیہ معارف اسلامیہ پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی زاہدی،صدر شعبہ اصول الدین پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین اور پروفیسر ڈاکٹر عبید احمد خان بھی موجود تھے اور انہوں نے اس طرح کے سیمینار کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قراردیتے ہوئے ڈاکٹر اسحاق عالم کی کاوشوں کو سراہا۔ سیمینار سے پروگرام آرگنائزر ڈاکٹر اسحاق عالم نے بھی خطاب کیا۔ 

اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اصول الدین ڈاکٹر اسحاق عالم نے اپنی گفتگو میں کہا کہ موجودہ مشینی دور میں دنیا ڈیجیٹل سسٹم کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، اسٹیٹ بینک نے باقاعدہ طورپر پانچ ڈیجیٹل بینکوں کی برانچیں کھولنے کا اعلان کردیا۔ ایسی صورت میں اہل علم کو سماج کے نئے مسائل کا ادراک کرنا چاہیے تاکہ عوام کی شرعی رہنمائی ہوتی رہے۔

کرپٹو ایکسپرٹ مفتی اویس پراچہ نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کی ابتدا بٹ کوائن سے ہوتی ہے جسے 2009 میں ایک نامعلوم پروگرامر ستوشی ناکاموٹو نے تیار کیا تھا۔ اس سے قبل کئی تجربات ہوئے لیکن سب ناکام ہو گئے۔ ناکاموٹو نے اس میں کرپٹو گرافی اور سابقہ کرنسیوں کی تکنیک شامل کر کے اسے ناقابل تسخیر بنایا تھا۔

ایکسپرٹ مفتی اویس پراچہ نے کہا کہ یہ کرنسی بلاک چین پر کام کرتی ہے۔ بلاک چین ایک ٹیکنالوجی ہے جس میں ڈیٹا کو بلاکس کی شکل میں ریکارڈ کیا جاتا ہے اور اس کی کاپی پی ٹو پی نیٹ ورک کے ذریعے تمام منسلکہ کمپیوٹرز میں بھیجی جاتی ہے۔ ہر لین دین کی ویری فکیشن کوئی تیسرا شخص کرتا ہے جسے مائنر کہتے ہیں۔

مفتی اویس پراچہ نے کہا ہر ویری فکیشن پر نئی بٹ کوائن پیدا ہو کر مائنر کو ملتی ہیں۔ بٹ کوائن کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہا اور کئی کرنسیز سامنے آئیں۔ پھر ایسی بلاک چینز بنیں جن پر اسمارٹ کنٹریکٹ چل سکتے تھے۔ یہ ایسے سافٹ وئیرز ہوتے ہیں جو کسی منتظم کے چلانے کے محتاج نہیں ہوتے۔ آج کل ان پر مالی اور دیگر سروسز چل رہی ہیں۔

ڈائریکٹر العصر فاؤنڈیشن مولانا فضل سبحان نے اپنی گفتگو میں العصر کے اغراض ومقاصد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کو جب بھی ضرورت پڑی ہے صف اول میں مدارس اور یونیورسٹیز کے نوجوان ہی نظر آئے ہیں، العصر فاؤنڈیشن یہی چاہتا ہے۔ فضلاء مدارس اور یونیورسٹی گریجویٹس کو باہمی افہام و تفہیم سے علوم و فنون کے تبادلے کا پلیٹ فارم میسر ہو۔

چیئرمین کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول ڈاکٹر دانش احمد صدیقی نے کہا کہ دنیا میں کرپٹو کرنسی کا استعمال آج کل عام ہوتا جا رہا ہے، مستقبل میں اس سلسلے میں کیا کچھ ہونے جا رہا ہے اس کا لحاظ اس وقت بھی کیا جاسکتا ہے، یہ اب دنیا کی ضرورت بن چکا ہے۔ اب علماء ہی اس پر اپنی رائے دے سکتے ہیں اور ہماری درست رہنمائی کرسکتے ہیں۔

 شریک بانی، الف ٹیکنالوجیز دبئی ڈاکٹر فرخ حبیب نے کرپٹو کرنسیز کی اقسام، خصوصیات اور استعمالات پر روشنی ڈالتے ہوئے دنیا بھر میں ان کی قانونی حیثیت سے آگاہ کیا۔ اپنی گفتگو میں انہوں نے کرپٹو کرنسیوں سے متعلق عالمی قوانین اور مختلف عالمی اداروں کے نقطہ نظر کو بھی واضح کیا۔ اور آخر میں بتایا کہ کس طرح کرپٹو کرنسیوں کی اقسام، استعمالات اور قوانین کرنسیز کی شرعی حیثیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

Related Posts