انتخابات کی غیر یقینی صورتحال

آئندہ انتخابات کے دن بظاہر قریب آرہے ہیں، تاہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کی یقین دہانی کے باوجود کہ انتخابات فروری 2024 میں ہوں گے، سیاسی منظر نامے پر غیر یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

ایک حالیہ انٹرویو میں صدر عارف علوی نے انتخابی شیڈول پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جو انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے عزم و کردار پر شکوک و شبہات کا مظہر ہے۔
انتخابات کے بروقت انعقاد کے معاملے پر خدشات بے بنیاد نہیں ہیں کیونکہ کچھ حلقے خراب موسم اور امن و امان کا بہانہ بنا کر انتخابات میں تاخیر کے لیے درخواستیں دائر کرنے کی تیاری کرتے نظر آرہے ہیں۔

ساتھ ہی یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ای سی پی نے ابھی تک انتخابات کا تفصیلی اور حتمی شیڈول جاری نہیں کیا ہے اور فروری قریب آلگنے کے باوجود سیاسی جماعتیں بھی زیادہ فعال نظر نہیں آ رہی ہیں۔
خدشات اور بے یقینی کی گرد کے باعث جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے، سیاسی جماعتوں میں بے چینی بھی بڑھ رہی ہے اور ہر کوئی بے یقینی کی صورتحال میں متضاد تبصرے کرتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ سوال بھی موجود ہے کہ انتخابات کن ماحول میں اور کس صورت میں انجام پائیں گے، اگر انتخابی عمل پر جانبداری کے الزامات کو تقویت ملی تو یہ واضح ہے کہ الیکشن کی قانونی حیثیت بھی معرض خطر میں پڑ جائے گی اور الیکشن کے بعد بھی ملک ممکنہ طور پر عدم استحکام کی زد میں رہے گا۔

اس تمام صورتحال میں بروقت انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل کو صاف شفاف اور مکمل غیر جانبدار بنانا الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

یہ انتخابات متعدد ملکی اور بین الاقوامی چیلنجوں کے درمیان ملک کے مستقبل کی درست یا غلط سمت کا تعین کریں گے۔ مکرر عرض ہے کہ انتخابات کی ساکھ اور شفافیت کا انحصار الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آزادی اور غیر جانبداری پر ہے۔ ای سی پی کو یقینی بنانا ہوگا کہ انتخابات وقت پر، شفاف طریقے سے اور ملک کے آئینی اور قانونی فریم ورک کے مطابق ہوں۔