کراچی میں بڑے حملوں کا تھریٹ الرٹ جاری، سیکورٹی انتظامات سخت

ملک کے سب سے بڑے شہر قائد میں بڑے حملوں کا تھریٹ الرٹ جاری کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق نیکٹا کی جانب سے جاری الرٹ میں متعلقہ اداروں کو سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

الرٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کیلئے چار خودکش بمبار تیار کئے گئے ہیں۔سندھ اسمبلی، وزیراعلیٰ ہاؤس، ہائیکورٹ اور پریس کلب پر حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیاہے۔

کراچی کے ریڈزون میں سرکاری اداروں اور عمارتوں کے اطراف سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

تھریٹ کی اطلاع پر کراچی خصوصاً ضلع جنوبی میں سیکورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں اور حساس تنصیبات، عمارتوں اور اہم مقامات پر پولیس نفری بڑھادی گئی ہے۔

دوسری جانب انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث بلوچستان کا دیگر صوبوں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان کے 20 سے زائد مقامات پرانتخابی نتائج میں مبینہ ردوبدل اور دھاندلی کے الزامات پر دھرنے جاری ہیں۔

ریلوے حکام کے مطابق چمن کوئٹہ سیکشن پر ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل ہے۔

بلوچستان کے کئی اضلاع چمن، قلعہ سیف اللہ، پشین،گوادر، زیارت اور نوشکی سمیت دیگر شہروں میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، جے یوآئی اور اے این پی کی جانب سے مختلف مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دھرنے بھی جاری ہیں۔