مقبوضہ کشمیر میں کرفیو 186ویں روز میں داخل: بین الاقوامی برادری آج بھی خاموش

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو 186ویں روز میں داخل: بین الاقوامی برادری آج بھی خاموش

مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی تاریخ کا بدترین کرفیو آج 186ویں روز میں داخل ہوگیا۔ ظلم و ستم آج بھی جاری ہے جس پر عالمی برادری خاموش نظر آتی ہے۔ 

مظلوم کشمیری ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی کے باعث وادئ کشمیر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آمدورفت سے محروم ہیں جبکہ اس دوران رابطوں کے لیے ذرائع مواصلات پر بھی پابندی عائد ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق غاصب بھارت مظلوم کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو دبانے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈے استعمال کرنے میں مصروف ہے۔ بڑی تعداد میں عوام الناس کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

جموں و کشمیر پر اگست سے متنازعہ آئینی حیثیت کا قانون مسلط کردیا گیا جس کے بعد سے کرفیو مسلسل نافذ ہے جس کے دوران مظلوم کشمیریوں کی نقل و حرکت اور رابطوں پر عائد پابندیاں آج بھی جاری ہیں۔ 

عوام  الناس کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنما اور بھارت نواز سیاستدان بھی بھارتی فوج کے ہتھکنڈوں سے محفوظ نہیں۔ سیاسی رہنماؤں کو قید و بند، گرفتاریوں اور نظر بندیوں کا سامنا ہے۔ 

یاد رہے کہ اس سے قبل  وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  کہ بھارت تباہی کی جانب گامزن ہے۔ نریندر مودی نے 5 اگست کو آج سے 6 ماہ پہلے کشمیر میں جو قدم اٹھایا تھا میرا ایمان ہے کہ کشمیر آزاد ہوکررہے گا۔

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا  کہ جمہوریت سے ملک میں خوشحالی آتی ہے اور میں جمہوریت پسند ہوں۔

مزید پڑھیں: بھارت تباہی کی جانب گامزن ہے۔ وزیراعظم