علامہ سید سلیمان ندوی کے یوم ولادت پر خصوصی تقریب

مقبول خبریں

کالمز

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

بر صغیر کے نامور سیرت نگار، مفکر، محقق، مدرس علامہ سید سلیمان ندوی  کے یوم پیدائش پر محبان پاکستان فاؤنڈیشن کی جانب سے دعائیہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں ان کے چاہنے والوں اور اہل ذوق نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

دعائیہ تقریب اسلامیہ کالج نزد گرو مندر کراچی کے احاطے میں واقع علامہ سید سلیمان ندوی کی آخری آرام گاہ پر منعقد ہوئی۔ اس موقع پر مختصر تقریب میں مزار قائد کے فاتحہ خوان اور خطیب قاری علامہ محمد شمس الدین و دیگر نے علامہ سید سلیمان ندوی کی حیات و خدمات پر مختصر روشنی ڈالی۔

یہ بھی پڑھیں:

اہم عہدوں پر تقرر: کیا ماضی سے سبق سیکھ لیا گیا ہے؟

مقررین نے بتایا کہ علامہ سید سلیمان ندوی برصغیر کے عظیم سیرت و تاریخ نگار تھے۔ وہ علامہ شبلی نعمانی کے شاگرد تھے اور علامہ شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق کتاب سیرت بعنوان ‘سیرۃ النبی’ کے شریک مصنف ہیں۔

مقررین کا کہنا تھا کہ سید سلیمان ندوی کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرۃ النبی کی دو جلدیں لکھنے کے بعد وفات پاگئے تھے، ان کے بعد علامہ سلیمان ندوی نے مزید چار جلدیں لکھ کر سیرۃ النبی کی علامہ شبلی نعمانی کے طرز پر تکمیل کرکے علمی دنیا کا عظیم معرکہ سر کیا۔

آخر میں علامہ قاری محمد شمس الدین نے علامہ سید سلیمان ندوی کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی اورخصوصی دعا کروائی۔

بانی اسلامیہ کالج اے ایم قریشی مرحوم کی پوتی محترمہ حسنہ قریشی نے بھی تقریب میں شرکت کی اور دعا میں شامل ہوئیں۔
تقریب میں شرکت کرنے والوں میں علمی و سماجی شخصیات سید ارشد عالم گیلانی، سید طارق شعیب صدر بہار فائونڈیشن، فاروق آعظم عرشی افتخار حسین کامل، نفیس احمد خان، انجنیر وسیم احمد،جہانزیب جوزی، سینئر صحافی مختار احمد بھائی جی، گلنار آفرین اور بڑی تعداد میں خواتین وحضرات شامل تھے۔

یاد رہے کہ علامہ سید سلیمان ندوی تقسیم  ہند کے بعد جون 1950ء میں ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی میں مقیم ہوئے۔ یہاں انہوں نے اپنے علمی مشاغل جاری رکھے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے تعلیمات اسلام بورڈ  کے صدر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں 22 نومبر 1953ء کو 69 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وفات کے بعد انہیں تحریک پاکستان کے نامور رہنما علامہ شبیر احمد عثمانی کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

Related Posts