اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی سینئر مرکزی رہنما و سینیٹر شیری رحمان نے دہشت گردی کے موضوع پر پاک امریکا مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے بات چیت کے فریم ورک پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں سینیٹر شیری رحمان نے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین کی ملاقات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ امریکا کہتا ہے پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف مذاکرات ہو رہے ہیں تاہم اس کا فریم ورک کیا ہے؟
سینیٹر شیری رحمان نے پاک امریکا مذاکرات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقاصد کو تعمیراتی انداز میں متعین کرنے کیلئے قسط وار مذاکرات درست راستہ نہیں۔ دونوں ممالک کے مابین اعتماد سازی کیلئے مستحکم مذاکرات ضروری ہیں جبکہ مشترکہ بنیادوں پر سرمایہ کاری اور مفادات کا تحفظ وقت کی ضرورت ہے۔
“Anti-terror talks with Pakistan to continue, says US,” but in what framework? Episodic engagement is not the path to constructive goal-setting. Sustained, structured dialogue is needed to build trust, invest in common ground, protect any gains. https://t.co/jREbvjf5xU
— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) October 9, 2021
خیال رہے کہ اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اقتصادی تعاون اور علاقائی امن کے فروغ کے لیے امریکہ کے ساتھ وسیع البنیاد، طویل مدتی اور پائیدار تعلقات کا خواہاں ہے۔
گزشتہ روز امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی نے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مشترکہ علاقائی مقاصد کے حصول کے لیے دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ اور منظم بات چیت پر زور دیا۔
وزیر خارجہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نیا افغان سیٹ اپ امن اور استحکام کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی بہتری کے لیے بھی کام کرے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان دونوں افغانستان کے بارے میں مشترک خیالات رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیر خارجہ کا امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر زور