سارہ انعام: وحشیانہ حملے کا ایک اور شکار

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

پاکستان میں خواتین پر تشدد اور قتل کے واقعات کوئی نئی بات نہیں لیکن اسلام آباد کے چک شہزاد میں ایک اور سفاکانہ قتل کے واقعے نے سب کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرلی ہے، جس میں معروف صحافی کے بیٹے ایاز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ انعام کو ڈمبل کے وار کر کے قتل کیا اور اس کی لاش کو باتھ ٹب میں پھینک دیا۔

یہ واقعہ جولائی 2021 میں اسلام آباد میں 27 سالہ نور مقدم کے قتل کے ساتھ بہت زیادہ مماثلت رکھتا ہے، اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات میں خواتین کتنی کمزور ہیں۔ پاکستان میں میاں بیوی کے درمیان گھریلو تشدد کی ایک طویل اور بھیانک تاریخ ہے۔ یہ صرف ایک مقامی سماجی بحران نہیں ہے بلکہ صحت عامہ کا مسئلہ بھی ہے کیونکہ خواتین نے اپنے شوہروں کی جانب سے جسمانی سے لے کر نفسیاتی اور جنسی استحصال تک کے حملوں کی شکایات کرتی نظر آتی ہیں۔

بہت سے واقعات میں، تشدد قتل کی حد تک بڑھ جاتا ہے، ملک بھر میں ایک اندازے کے مطابق 5,000 قتل سالانہ گھریلو تشدد سے ہوتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ متاثرین کے پاس قانونی چارہ جوئی بہت کم ہے اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان عمومی تاثر یہ ہے کہ گھریلو تشدد ایک ذاتی معاملہ ہے، جرم نہیں۔ اس کے نتیجے میں زیادہ تر مقدمات کے اندراج سے انکار کردیا جاتا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق خواتین پر تشدد کے حوالے سے چونکا دینے والے واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں، ہر دوسرے دن خواتین کے ساتھ زیادتی، عصمت دری اور قتل کے متعدد واقعات رونما ہوتے ہیں، جبکہ معاملے کو الگ رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور خواتین کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہمارا معاشرہ، شادی، شراکت داری اور خواتین کے اپنے نظریات کے پیش نظر خواتین کو وہ حقوق اور آزادی نہیں دیتا جو انہیں ملنی چاہئے، جس کے لئے خواتین کو جدوجہد کرنی پڑتی ہے، ایسی صورت میں جہاں خواتین کو وہ آزادی حاصل نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے حقوق کو برقرار رکھے اور ان کی حفاظت کرے۔

Related Posts