دوسروں کو چور چور کہنے والوں کا کارنامہ، کے پی کے حکومت کا اربوں کا رمضان پیکیج پارٹی کارکنوں میں تقسیم

مقبول خبریں

کالمز

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

نجی چینل نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی کرپشن بے نقاب کردی، فوٹو دی نیوز

دوسروں کو چور چور کہنے والی پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا رمضان ریلیف پیکیج پارٹی کارکنوں میں ہی تقسیم کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

نجی چینل آج نے رپورٹ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کا 10 ارب 20 کروڑ کا رمضان ریلیف پیکیج پی ٹی آئی کے پارٹی ورکرز میں تقسیم کردیا گیا۔ ضلع کرک میں 22 ہزار500 افراد کو فی کس 10 ہزار روپے دیئے گئے۔ مستحقین میں ایم این اے، ایم پی اے خورشید خٹک اور صوبائی وزیر سجاد بارکوال کے 5، 5 ہزار افراد سمیت پی ٹی آئی کے بعض حاضر سروس ملازمین بھی مستحق افراد میں شامل ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے حاصل کی گئی فہرستوں نے خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے اعلان کردہ رمضان ریلیف پیکیج کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔ فہرستوں کی تحقیق پر پتہ چلا کہ ریلیف پیکیج سے مستحق افراد کی بجائے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور من پسند افراد کو نوازا گیا۔

بلوچستان میں اب پہلے سے زیادہ ٹرینیں چلیں گی، جعفر ایکسپریس سفر کب شروع کرے گی؟

رپورٹ کے مطابق ضلع کرک میں 22 ہزار500 افراد کو 10 ہزار روپے فی کس ملے۔ مستحقین میں ایم این اے کے 5 ہزار افراد جبکہ ایم پی اے خورشید خٹک اور صوبائی وزیر سجاد بارکوال کے پانچ، پانچ ہزار افراد بھی شامل ہیں۔

تینوں تحصیل چیئرمینوں کو 2500 ،2500 افراد کا کوٹہ دیا گیا۔ تمام فہرستیں متعلقہ افراد کے فوکل پرسنز نے تیار کیں اور فہرستوں موجود اکثر افراد پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں۔ بعض جہگوں پر ایک گھر سے کئی افراد کو بھی شامل کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ پیکیج سے ضلعی صدر سے لیکر ادنی کارکن اور ورکر مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے بعض حاضر سروس ملازمین بھی مستحق افراد میں شامل ہیں۔ فہرستوں میں مستقین کے نام اور پتے کی بجائے صرف ضلع اور سی این آئی سی نمبر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 12 فروری کو رمضان پیکج کے تحت مستحق گھرانوں کو 10، 10 ہزار روپے دینےکا اعلان کیا تھا۔

وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈا پورکا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے رمضان پیکج کے تحت مستحق گھرانوں کو 10، 10 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے ہر حلقے میں 5 ہزار مستحق گھرانوں کی معاونت کی جائے گی، پیکج کی تقسیم ایک صاف اور شفاف طریقہ کار کے تحت کی جائے گی۔

Related Posts