حرم شریف میں تکنیکی اور آپریشنل امور کی دیکھ بھال کی ایجنسی نے نمازیوں اور معتمرین کی سہولت کے لیے مسجد کے صحنوں کے ماحول کو ٹھنڈا کرنے اور پُرلطف بنانے کے لیے پانی کی پھوار والے 250 پنکھنے نصب کردئیے ہیں۔
ان پنکھوں کے ذریعے حرم شریف کے ماحول کو نرم کیا جاتا اور زائرین کو موسم کی تیزی سے بچا کر خوش گوار احساس فراہم کیا جاتا ہے۔
یہ پنکھے المسجد الحرام کے صحنوں میں ہوا کو ٹھنڈا کرتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے باہر کی ہوا سے تھرمل توانائی جذب کرکے مسٹ کولنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
کراچی سے لاپتہ ہونے والی لڑکی لاہور پہنچ گئی، اغواء کار سے شادی کا دعویٰ
پانی کی پھوار والے یہ پنکھے اور واٹر مسٹ کالم کھلے مقامات میں ہوا کو نرم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان پنکھوں میں خصوصی ہائی پریشر پمپ کے ذریعہ پانی کو ہائی پریشر سے پھینکا جاتا ہے۔ یہ پریشر 42 کلوگرام فی مربع سنٹی میٹر سے کم نہیں ہوتا۔ پانی کو زیادہ دباؤ سے پمپ کیا جاتا ہے۔ یہ پانی صفائی کے فلٹرز سے گزر کر پنکھے میں مائیکرو نوزلز (2 سے لیکر ایک مائیکرون) سائز کی ہوتی ہے۔ ان نوزلز سے پانی ٹھنڈی پھوار کی صورت میں نکلتا ہے۔
ان ’’مِسٹ فینز‘‘ کی تعداد 250 ہے اور انہیں مسجد حرام کے صحنوں میں مختلف مقامات پر لگایا گیا ہے۔ ان کی اونچائی زمین سے لگ بھگ 4 میٹر ہے۔ پنکھے کا قطر 38 انچ تک ہے۔ اس میں ہوا کے بہاؤ کی رفتار سی ایف ایم 1100 تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ہوا تقریبا 10 میٹر دور تک جاتی ہے۔
نماز کے اوقات میں المسجد الحرام کے صحن لوگوں سے بھر جاتے ہیں اور درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ ایسے وقت میں ’’مِسٹ فین‘‘ کا نظام کھلے مقامات میں ایئر کنڈیشنگ کے لیے موزوں ترین ثابت ہوتا ہے۔ پانی کی پھوار والے ان پنکھوں سے درجہ حرارت میں 6 ڈگری تک نیچے گر جاتا ہے۔