اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ پر انسدادِ دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج

حلیم عادل شیخ کی 2 مقدمات میں ضمانت منظور، 2،2لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم

کراچی: پولیس نے قائدِ حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما حلیم عادل شیخ کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا جبکہ یہ اقدام پیپلز پارٹی رہنماؤں کے مطالبے کے بعد اٹھایا گیا۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کے خلاف کراچی کے ضلع ملیر میں واقع میمن گوٹھ تھانہ میں ایف آئی آر نمبر 48/2021 درج کی گئی جس میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے علاوہ دیگر دفعات بھی شامل ہیں۔

سندھ پولیس نے حلیم عادل شیخ کے خلاف 3 مزید مقدمات بھی درج کر لیے جن میں غیر قانونی اسلحے کی نمائش اور دیگر دفعات شامل ہیں۔ چاروں مقدمات گزشتہ روز حکومت کی مدعیت میں درج ہوئے۔

حلیم عادل شیخ کے ہمراہ دیگر 4 ملزمان بھی نامزد ہیں جو پولیس کی حراست میں ہیں۔ چاروں مقدمات میمن گوٹھ تھانہ میں درج کیے گئے۔ دیگر 3 مقدمات میں 4 افراد کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا۔

یاد رہے کہ اِس سے قبل حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران اور دیگر پی ٹی آئی رہنما وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر پہنچ گئے۔  

گزشتہ روز تحریک انصاف کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی نے سندھ اسملبی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے خلاف وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے دیا۔

مزید پڑھیں: حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کاوزیراعلیٰ ہاؤس کے باہردھرنا