تربت سے بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کی خاتون رکن گرفتار

تربت سے بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کی خاتون رکن گرفتار

اسلام آباد: بلوچستان حکومت نے کہا ہے کہ انہوں نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) مجید بریگیڈ کی ایک خاتون رکن کو تربت سے گرفتار کیا ہے اور اس کے قبضے سے ایک خودکش جیکٹ، چھ دستی بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت فرح عظیم شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تربت میں چھاپے کے دوران نور جہاں نامی خاتون کو کالعدم بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے مبینہ رکن کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔

فرح عظیم شاہ نے کہا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) مکران رینج نے 16 مئی کو بلوچستان کے شہر ہوشاب میں چھاپہ مارا تھا جس میں ایک مشتبہ خاتون نور جہاں کو اس کے ساتھی سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔

”اس کا ساتھی کالعدم بی ایل اے مجید بریگیڈ کا رکن ہے جس سے ایک خودکش جیکٹ، چھ دستی بم اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔”

ترجمان نے بتایا کہ ملزم کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرائی گئی تھی جبکہ مقامی عدالت نے سات روزہ ریمانڈ بھی دیا تھا۔

فرح عظیم شاہ کا کہنا تھا کہ گرفتار خاتون نے بی ایل اے کی سرگرمیوں سے متعلق انکشافات کیے ہیں۔ ”اس نے انکشاف کیا کہ اسلم عرف اچھو کی بیوی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے مزید خواتین کو تربیت دے رہی ہے۔”

اسلم عرف اچھو کو پہلے ہی قتل کر دیا گیا تھا اور اب اس کی بیوی یاسمین مزید خواتین کو تربیت دے رہی ہے۔ نور جہاں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ ایک تنخواہ دار رکن ہے جس نے دبئی میں رہنے والے ندیم نامی شخص سے رقم وصول کی تھی۔

فرح عظیم شاہ نے کہا کہ اعلیٰ حکام نے دبئی حکومت سے بات چیت شروع کر دی ہے۔

گرفتار خاتون نور جہاں نے وحیدہ، فہمیدہ اور حمیدہ کے نام ظاہر کیے ہیں۔ بی ایل اے کا مجید بریگیڈ مزید خواتین کو خودکش بم حملے کی تربیت دے رہا ہے۔ سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف بلا خوف و خطر کارروائیاں کر رہے ہیں۔

فرح عظیم شاہ نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں۔ دہشت گردانہ حملے (برطانیہ) کے کچھ لوگوں اور خلیجی ممالک میں رہنے والے کچھ لوگوں کی ایماء پر کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:جامعہ کراچی میں دھماکہ، بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی

ترجمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے سب کو قومی دھارے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے لیکن بلوچستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں