موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ

موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن کر ابھر رہی ہے اور اس کے ملک پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ یہ مسلسل گرمی کی لہروں، برفانی گلیشیئر کے پگھلنے، خشک سالی اور گندم کی گرتی ہوئی پیداوار کے لیے ذمہ دار ہے جس کا شدید اقتصادی اثر پڑے گا۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کے حوالے سے پانچویں نمبر پر ہے۔ معاشی بحران کے علاوہ ملک گندم کی شدید قلت کے ساتھ خوراک اور پانی کی کمی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انتہائی خراب موسم کی وجہ سے اس سال گندم کی ملکی پیداوار میں 10 فیصد کمی ہو سکتی ہے اور اسے گندم کی 30 لاکھ ٹن کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے پاکستان کو اجناس درآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

مارچ اور اپریل کے مہینوں میں انتہائی زیادہ درجہ حرارت اور خشک سالی کے حالات دیکھنے میں آئے جس نے گندم کی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا۔ ایسے چیزیں دیکھنے کو ملیں کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ درجہ حرارت میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلی مختلف موسموں میں ہونے والی فصلوں کومتاثر کرسکتی ہے، یا بعض فصلوں کی کاشت کی عملداری کو بھی ختم کر سکتی ہے۔ یہ موسمی حالات انتہائی غربت، غذائی قلت، خوراک کی کمی، پانی کی کمی، مویشیوں کی پیداوار میں کمی، جبری نقل مکانی اور وائرل بیماریوں میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

پاکستان پہلے ہی پچھلے چند مہینوں کے دوران بارشوں میں کمی دیکھ چکا ہے اور شدید گرمی کی لہریں پانی اور خوراک کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ہم نے شمالی علاقوں میں برفانی جھیل کے سیلاب کے اثرات کو بھی دیکھا ہے جس سے ایک پل بہہ گیا اور رابطہ منقطع ہو گیا۔ چولستان کا صحرا کم بارشوں کی وجہ سے بدترین خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے جس سے مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے جہاں صحرائی اور بنجر حالات کی وجہ سے خشک سالی کی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق موسمیاتی آفات سے جی ڈی پی کا 4-6 فیصد نقصان ہو رہا ہے جو کہ ایک بہت بڑی رقم ہے، حکومت کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے اور گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید حکومت موسمیاتی تبدیلی کی ہنگامی صورتحال کے لیے سالانہ بجٹ میں فنڈز مختص کرے۔

پاکستان کو توانائی کی منتقلی اور صاف توانائی کی طرف منتقل کرنے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے خاتمے پر کام کرنے اور گرمی اور خشک سالی کے خلاف مزاحمت کرنے والی فصلیں تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ طرز زندگی میں تبدیلی کے لیے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کے بے دریغ ضیاع کو روکا جا سکے۔ اگر ہم نے فوری اقدامات نہیں کئے تو شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں