رخصتی کے بعد فلسطینی دلہا دلہن نے کار موٹر کو گھر بنالیا

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے دوران غزہ کے ایک نوبیاہتے جوڑے نے ایک کار موٹر کو ہی گھر بنا کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ واقعہ وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح کا ہے، جہاں فلسطینی نوجوان ابراہیم اور نرمین کی شادی کی تقریب اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے ایک اسکول میں منعقد ہوئی، جس کے بعد دونوں نے کسی آرام دہ گھر کا رخ نہیں کیا، بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر قریب میں واقع قدرے محفوظ جگہ پر پارک کی ہوئی کار میں داخل ہوئے۔
یہ سفید کار جس کی کھڑکیاں اندر سے کپڑوں کا پردہ لٹکا کر ڈھک دی گئی ہیں، اس نئے جوڑے کا گھر ہے اور اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے دوران وہ اسی کار سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنے پر مجبور ہیں۔

ابراہیم اور نرمین کا تعلق شمالی غزہ سے ہے، جہاں سے وہ ہزاروں دیگر ہم وطنوں کے ساتھ جبری طور پر بے دخل ہوکر جان بچانے کیلئے وسطی غزہ آگئے ہیں، شمالی غزہ سے انہیں اسرائیلی فوج نے جنگ کے آغاز میں ہی گھر چھوڑ کر جنوب کی طرف جانے پر مجبور کیا تھا۔
دونوں کا رشتہ جنگ سے پہلے طے کر دیا گیا تھا، دلہن نرمین کو امید تھی کہ وہ بھی عام حالات کی طرح عام فلسطینیوں دلہنوں کی طرح روایتی سفید عروسی جوڑا پہنیں گی اور امن و مسرت کے ماحول میں اس کی شادی کی ایک بڑی تقریب منعقد ہوگی، لیکن جنگ نے اس کے سارے خواب زمین بوس کردیے۔
تاہم اسرائیل کے وحشیانہ حملے شروع ہونے کے بعد بدترین حالات اور ہر طرف پھیلی اداسی اور غمی کی فضا کے باوجود نوبیاہتا جوڑا اس بے بسی کی حالت میں بھی اپنی محبت کے بل بوتے پر خوشی کے کچھ لمحات حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

دیر البلح کے اس اسکول کے اندر، جو ہزاروں بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ ہے، نوبیاہتا جوڑے کے رشتہ داروں اور بے گھر افراد نے شادی کی ایک چھوٹی سی تقریب کا اہتمام کیا اور سب نے اس نوجوان جوڑے کی خوشی میں اپنے غم اور مشکلات بھلا کر شرکت کی۔
اس موقع پر نرمین نے روایتی فلسطینی لباس پہنا اور جس قدر ان مشکل حالات میں ممکن تھا، خود کو تیار کیا اور بنایا سنوارا، تاکہ خوشی کا احساس اداس ماحول کو کسی طرح کم کر سکے۔

اس موقع پر نرمین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری شادی گزشتہ جون میں طے ہوئی تھی، مگر پھر حالات نے ہمیں دھوم دھام اور روایتی طریقے سے شادی کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہمیں جنگ کے دوران شادی کرنی پڑی، لیکن تمام مشکلات کے باوجود ہم ایک ساتھ جینے کیلئے پر عزم ہیں۔

نرمین کا کہنا تھا کہ رخصتی کے بعد ہمیں رہنے کے لیے ایک الگ جگہ چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ایسی کوئی جگہ دستیاب نہیں، ایسے میں کار ہی ہمارے لیے واحد آپشن ہے۔

Related Posts