وبائی مرض پھوٹ پڑنے پر 3 ہزار مسافر کھلے سمندر میں پھنس کر رہ گئے

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

ہیضے کی مشتبہ وبا پھیلنے کے باعث مشرقی افریقہ کے جزیرے ماریشس کے قریب بحری جہاز پر 3000 سے زائد مسافر پھنس کر رہ گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ ناروے کے ایک بحری جہاز پر معدے میں انفیکشن کی وبا پھوٹ پڑی، جس کے باعث ماریشس کے حکام نے جہاز کو پورٹ لوئس میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، اس سے قبل جہاز نے قریبی فرانسیسی جزیرے لا ری یونین کا رخ کیا تھا، مگر ری یونین کے حکام نے بھی اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوبی افریقہ کا پورا خطہ اس وقت ہیضے کی بدترین وبا سے دوچار ہے۔ 2,184 مسافروں میں سے اکثریت نے کل اپنے ملک واپسی کا سفر شروع کرنا تھا۔

 ماریشس کے حکام نے جہاز پر سوار تقریباً 15 افراد کے نمونے لیے۔ ٹیسٹوں کے نتائج منگل کو جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق کم از کم 14 مسافروں اور عملے کے ایک رکن کو اسہال اور الٹیوں کی شکایت ہے۔ جس کے باعث وہ سب اپنے کمروں میں قرنطینہ کر دیے گئے ہیں۔

نارویجن کروز لائن نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کے جہاز پر سوار مسافروں میں سے چند ایک کو جنوبی افریقہ کے خطے میں سفر کے دوران پیٹ کی بیماری کی ہلکی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔

کمپنی نے کہا کہ ماریشش کے حکام نے اس صورتحال میں مسافروں کو جہاز سے اترنے اور دوسرے کروز پر سوار ہونے سے روک دیا ہے۔

گزشتہ دن جہاز کے کپتان نے مایوس ہوکر مسافروں کو آگاہ کیا کہ ماریشس کے حکام جہاز کو پورٹ لوئس میں لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ اس نے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے جہاز میں صفائی کے طریقہ کار کو بڑھادیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بدقسمت جہاز 13 فروری کو جنوبی افریقہ سے مڈغاسکر کے راستے لا ری یونین اور ماریشس کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس کے بعد جہاز نے مزید مسافروں کو لے کر جنوبی افریقہ واپس جانا تھا۔

Related Posts