پولیس مقابلے میں مار دینگے مگر عدالت نے ایک نہ سنی! ملزم زیبی بٹ کا ویڈیو بیان وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

لاہور میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے سنگین مقدمات کے نامزد ملزم شاہ زیب عرف زیبی بٹ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں اس نے اپنی سیاسی مخالفت کو بنیاد بنا کر مبینہ پولیس مقابلے میں قتل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

شاہ زیب عرف زیبی بٹ یکم نومبر کو لاہور میں ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو ریکوری کے لیے منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں اس کے مسلح ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہ مارا گیا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو مبینہ طور پر 30 اکتوبر کی ہے جب ملزم کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ کے سلسلے میں عدالت پیش کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں اسے اپنی اہلیہ اور وکیل سمیت دیگر افراد سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی جان کو لاحق خطرات کا اظہار کرتے سنا جاسکتا ہے۔

زیبی بٹ کا دعویٰ تھا کہ مسلم لیگ (ن) سے سیاسی مخالفت کے باعث اس کے مخالفین اسے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کرانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کاؤنٹر کرائم ڈائریکٹوریٹ (سی سی ڈی) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ شاہ زیب کے خلاف مقدمے کی تفتیش یا اس کی ہلاکت سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم کے خلاف قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری سمیت 20 سے زائد مقدمات درج تھے۔ اسے شاہدرہ ٹاؤن پولیس نے بھتہ خوری کے مقدمے میں کوہاٹ سے گرفتار کیا تھا۔

اسلام پورہ پولیس حکام کے مطابق منتقلی کے دوران ملزم کے چار مسلح ساتھیوں نے اسے چھڑوانے کے لیے حملہ کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں شاہ زیب ہلاک جبکہ پولیس اہلکار فاروق زخمی ہوگیا۔

Related Posts