کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں! وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا استعفیٰ دینے کا اعلان؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی موقف اور نظریات پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور ضرورت پڑنے پر وزارتِ اعلیٰ کے عہدے کو ٹھکرانا بھی ان کے لیے کوئی مشکل فیصلہ نہیں ہوگا۔

صوبے میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر طلب کردہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے ہتھکنڈوں اور دھمکیوں سے انہیں ان کے موقف سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ایسی اقتدار کی کرسی کا کوئی فائدہ نہیں جو انسان کو اس کے بنیادی نظریات سے دور کر دے۔

وفاقی سیکیورٹی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ

وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کو کڑے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں قیامِ امن کے لیے موجودہ سیکیورٹی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اس لیے فوری طور پر ایک نئی پالیسی بنائی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے غیور عوام، بہادر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردی کے خلاف لازوال قربانیاں دی ہیں جن کے پیشِ نظر پالیسی میں تبدیلی ناگزیر ہے۔

ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ وفاق کو اس حساس معاملے پر صوبے کے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے کیونکہ سیکیورٹی حکمت عملی میں تبدیلی صرف خیبرپختونخوا ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

پولیس کے لیے خطیر فنڈز اور 100 دن میں امن کا دعویٰ

اجلاس کے دوران پولیس فورس کی کارکردگی اور وسائل کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ صوبائی حکومت نے ترقیاتی فنڈز میں سے 35 ارب روپے براہِ راست پولیس کو جاری کیے ہیں جبکہ آئندہ مالی سال 2026 کے دوران فورس کی صلاحیت اور استعداد کار کو دوگنا کرنے کے لیے بجٹ میں 103 فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ دعویٰ کیا کہ اگر ان کی تجویز کردہ نئی سیکیورٹی پالیسی کو ہو بہو نافذ کر دیا جائے تو محض سو روز کے اندر صوبے میں مکمل امن بحال کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ صوبے کے عوام کے آئینی اور جمہوری مینڈیٹ کے خلاف اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔

Related Posts