نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے رہنماؤں فواد چوہدری، محمود مولوی، عمران اسماعیل اور بیرسٹر سیف نے بدھ کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ عمران خان 5 اگست 2023 سے جیل میں قید ہیں۔
درخواست دائر کرنے کے موقع پر این ڈی سی رہنماؤں نے سابق وزیراعظم کے جیل میں حالات اور سلوک پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ان کے دوست ہیں اور وہ جیل میں ان کے ساتھ کیے جانے والے برتاؤ پر فکرمند ہیں۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کی سہولت دی جانی چاہیے۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ این ڈی سی کا مقصد مذاکرات کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ان کی رضامندی کے بغیر ملاقات نہیں کی جا سکتی جبکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ان کی بات سننی چاہیے اور عمران خان کو بھی کمیٹی کے موقف کو سمجھنا ہوگا۔
اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر تو عمران خان سے ملاقات نہیں ہو سکتی، ہماری اپروچ مختلف ہے، ہم بات چیت کے ذریعے چیزیں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کو ہماری بات سننی اور عمران خان کو ہماری بات سمجھنی ہو گی، فواد چوہدری pic.twitter.com/CN8CgoNedU
— Zahida Rao (@zahidarao123) August 5, 2026
فواد چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل قوانین کے تحت کمیٹی کو عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کا حق حاصل ہے۔
” ہم حکومت سے اور مقتدرہ سے بھی بار بار مل کر اس موقف کا بھی اعادہ کر چکے ہیں کہ عمران خان صاحب کو ڈائیلاگ میں شامل کئے بغیر ان کی رائے شامل کئے بغیر کوئی بھی بڑا فیصلہ جو پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہو نہیں لیا جا سکتا اس سے ہم سمجھتے ہیں عدالت سے ہمیں ملاقات کی اجازت دی جائے… pic.twitter.com/vshTazgCsE
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) August 5, 2026
انہوں نے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری اور شریف خاندان کے ساتھ ملک میں پیش رفت ممکن نہیں، جبکہ ان کے مطابق یہ جماعتیں ہر پانچ سال بعد اسٹیبلشمنٹ کو گمراہ کرتی ہیں۔
بیرسٹر سیف کا موقف
بیرسٹر سیف نے کہا کہ پاکستان کی ترقی سے متعلق کوئی بڑا فیصلہ عمران خان کو مذاکراتی عمل میں شامل کیے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے مطابق حکومت اور متعلقہ حکام کو بارہا آگاہ کیا گیا ہے کہ اہم قومی معاملات میں عمران خان کی رائے کو شامل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت ملاقات کی اجازت دے گی اور حکام و اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کی کہ وہ کمیٹی کو سہولت فراہم کریں تاکہ ملک میں کشیدگی اور محاذ آرائی کی فضا کم کی جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








