ٹنڈو آدم اور نواب شاہ ریلوے اسٹیشن کے درمیانی علاقے میں ایک مال گاڑی کو پیش آنے والے حادثے نے ریلوے کے پورے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔ مال بردار ٹرین کی بوگیاں پٹری سے نیچے اترنے کے باعث کراچی سے چلنے والی اور وہاں آنے والی ٹرینوں کی آمد و رفت کو عارضی طور پر روکنا پڑ گیا ہے جس کے نتیجے میں کئی مسافر ٹرینیں راستے میں ہی مختلف اسٹیشنوں پر کھڑی کر دی گئی ہیں۔
ٹریک کی بحالی کے لیے ہنگامی امدادی کام جاری
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے حادثہ پر ریلیف آپریشن کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ اس وقت دو بھاری ریلیف کرینوں کے ذریعے متاثرہ ٹریک کو صاف کرنے اور حادثے کا شکار ہونے والی بوگیوں کو راستے سے ہٹانے کا کام تیزی سے جاری ہے تاہم ریلوے حکام کا ماننا ہے کہ ٹریفک کو مکمل طور پر بحال کرنے کے عمل میں اب بھی کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
مرحلہ وار بحالی کا منصوبہ
ریلوے انتظامیہ کے مطابق ان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ سب سے پہلے ڈاؤن ٹریک پر گری ہوئی بوگیوں کو ہٹا کر ٹرینوں کی نقل و حرکت کو جزوی طور پر دوبارہ شروع کیا جائے اور اس کے بعد بتدریج پورے آپریشن کو معمول پر لایا جائے گا۔
مختلف اسٹیشنوں پر ٹرینیں روک دی گئیں؛ مسافر پریشان
اس اچانک تعطل کی وجہ سے سفر کرنے والے شہریوں کو طویل انتظار کی کوفت اور سخت پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے کیونکہ متعدد اہم مسافر ٹرینیں مختلف مقامات پر روک لی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے قراقرم ایکسپریس کو حیدرآباد اسٹیشن پر روک دیا ہے جبکہ علامہ اقبال ایکسپریس کو کوٹری پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ راولپنڈی کے لیے روانہ ہونے والی پاکستان ایکسپریس کو لانڈھی اسٹیشن پر بریک لگا دی گئی ہے۔
دوسری جانب پشاور سے کراچی کی طرف سفر کرنے والی رحمان بابا ایکسپریس کو بھی آگے بڑھنے سے روک کر ٹنڈو آدم اسٹیشن پر ہی کھڑا کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسافروں کا متبادل انتظام نہ ہونے کے باعث برا حال ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








