کربلا کے متعلق آپ کیا جانتے ہیں؟

کربلا اور واقعہ کربلا سے کون مسلمان ہے جو واقف نہیں ہے؟ دس محرم الحرام 61 ہجری کو کربلا کے مقام پر نواسہ رسول جگر گوشہ بتول امام عالی مقام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے خاندان مبارک پر ظلم و ستم کی وہ داستان رقم ہوئی کہ آج چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود مسلمان اس ظلم کا کرب اور درد آج بھی اپنے دل میں محسوس کرتے اور آل نبی کا غم تازہ کرتے ہیں۔

کربلا کہاں واقع ہے؟

تاریخ اسلام کے اس عظیم سانحے کی وجہ سے دنیا کے ہر مسلمان کے کان کربلا سے آشنا ہیں، مگر کربلا کہاں واقع ہے اور اس کی موجودہ شہری صورتحال کیا ہے، یہ بہت کم لوگوں کے علم میں ہے۔ آئیے کربلائے معلیٰ کے بارے میں ذرا تفصیل سے جانتے ہیں۔ 

کربلا عراق کا مشہور شہر ہے، یہ مقدس شہر عراق کے دار الحکومت بغداد سے 100 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع اور صوبہ کربلا کا حصہ ہے۔ کربلا آل نبی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے پہلے ایک غیر معروف گزر گاہ کی حیثیت سے موجود تھا، مگر عترت نبی پر ہونے والے یزیدی ظلم کے بعد اس غیر معروف مقام نے تاریخ میں شہرت دوام حاصل کر لی۔

کربلا کی آبادی اور شہری انتظام 

کربلا شہر کی موجودہ آبادی دس لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے جو  محرم الحرام اور صفر کے مہینوں میں آل نبی کی محبت میں دنیا کے کونے کونے سے چلے آنے والے لا تعداد زائرین کی وجہ سے بہت بڑھ جاتی ہے۔

 کربلا کو عراق کا ایک امیر شہر مانا جاتا ہے، اس شہر کی آمدن میں مذہبی  سیاحت اور زرعی پیداوار کا بڑا حصہ شامل ہے۔ کربلا کی کھجور بھی انتہائی شوق اور عقیدت سے کھائی جاتی ہے اور یہ بھی اس شہر کی آمدن میں اضافہ کا اہم ذریعہ ہے۔

کربلا دو اضلاع پر مشتمل ہے، پرانا کربلا مذہبی مرکز عقیدت کے طور پر معروف ہے اور نیا کربلا شہر کا ایک رہائشی علاقہ ہے، جہاں مذہبی مدارس، تعلیمی مراکز، حوزہ جات کی بڑی تعداد اور حکومتی عمارات موجود ہیں۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا مزار پر انوار اس شہر کے ماتھے کا جھومر اور اس شہر مقدس کی شناخت کا اہم وسیلہ ہے۔ مزار مبارک پرانے شہر کے وسط میں واقع ہے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا مزار صدیوں سے مرجع خلائق

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا مزار صدیوں سے مرجع خلائق ہے، دنیا کے کونے کونے سے مسلمان اور اہل عقیدت بالخصوص محرم الحرام میں زیارت کیلئے آتے اور آل نبی کا غم قریب سے محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 کربلا کی بلدیہ کے مطابق اربعین یعنی چہلم تک دنیا بھر سے آنے والے زائرین کی تعداد 20 ملین تک پہنچ جاتی ہے۔

اربعین واک

انہی دنوں ہزاروں اہل عقیدت عراق کے ایک اور مقدس شہر نجف اشرف سے کربلا تک “اربعین واک” بھی کرتے ہیں۔ ہزار ہا زائرین بصد شوق نجف سے کربلا تک تقریبا اسی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل کرتے ہیں اور نجف اشرف میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مزار سے کربلا میں سیدنا حیسن رضی اللہ عنہ کے مزار تک پیدل سفر کرتے ہیں، یہ اربعین واک کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ 

کربلا شہر تاریخ میں کئی حوادث کا شکار بھی ہوا۔ مارچ 1991ء میں حملوں کے نتیجے میں اس شہر کو کافی نقصان ہوا اور مزارِ حسین سمیت کئی مذہبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم بعد ازاں مزار شریف کو دوبارہ بحال کیا گیا۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں