جارحیت کا شکار معصوموں کا عالمی دن اور بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم

Money-lender marries eight-year-old girl as father fails to repay loan

پاکستان سمیت دنیا بھر میں جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے جبکہ وطنِ عزیز سمیت دنیا کے ہر علاقے میں ہر وقت کسی نہ کسی کے ہاتھوں کوئی نہ کوئی بچہ ظلم و تشدد، جنسی زیادتی اور جبر کا شکار ہو رہا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا عالمی دن کیا ہے؟ اسے منانے سے اقوامِ متحدہ جیسے ادارے کا کیا مقصد ہے اور خود وطنِ عزیز پاکستان میں بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم، جنسی زیادتی اور قتل جیسے لرزہ خیز واقعات کے خلاف کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

عالمی دن کا تاریخی پس منظر

فلسطین میں بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کے پس منظر میں 19 اگست 1982ء کے روز اقوامِ متحدہ نے فیصلہ کیا کہ اسرائیل معصوم فلسطینی اور لبنانی بچوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔ ہر سال 4 جون کے روز جارحیت کا شکار معصوموں کا عالمی دن منایا جائے تاکہ لوگوں اور عالمی برادری کو احساس ہو کہ بچوں کے ساتھ کتنا ظلم اور تشدد ہو رہا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں اقوامِ متحدہ کے تحت یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے جبکہ اس موقعے پر مختلف تقاریب، سیمینارز، مذاکرے اور مباحثے منعقد کیے جاتے ہیں جن میں بچوں کو درپیش مسائل اور خاص طور پر جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے مقبوضہ علاقوں میں جنگی جرائم کا شکار بچوں کے مسائل اجاگر کیے جاتے ہیں۔ 

دن منانے کا مقصد

عالمی دن منانے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر میں جسمانی، ذہنی اور جذباتی استحصال کا شکار بچوں کے درد اور تکلیف کو تسلیم کیا جائے جبکہ اقوامِ متحدہ نے عالمی برادری سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔ عالمی دن سے اقوامِ متحدہ کو بچوں کے حقوق پر مزید کام کرنے میں مدد ملتی ہے۔

 کوئی بچہ کسی کا دشمن نہیں ہوتا کیونکہ بچے ہر شخص کے ساتھ محبت سے پیش آتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں کوئی بھی بچہ کوئی بھی عمل پختگی سے نہیں کرتا بلکہ اس کے ہر عمل میں فطری میلان پایا جاتا ہے۔ اگر وہ کوئی غلطی کرتا ہے تو آپ سمجھا سکتے ہیں۔ اگلی بار بچہ وہ غلطی نہیں کرتا۔

اس لیے بچوں کے ساتھ کسی بھی جنگ، لڑائی یا بحث و مباحثے کے دوران کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ بچے کسی جنگ کے آغاز کا سبب نہیں بنتے، نہ ہی کسی بڑی لڑائی میں ان کا کوئی ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ خود بھی چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کی دنیا بھی چھوٹی سی ہوتی ہے جس میں کسی عداوت، بغض اور حسد کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

رواں برس دن کا موضوع

اقوامِ متحدہ ہر سال تقریباً ہر عالمی دن کا کوئی الگ موضوع رکھتا ہے۔ رواں برس جارحیت کا شکار معصوم بچوں کے عالمی دن کا موضوع بچوں پر حملوں کو روکنا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق کسی بھی معاشرے میں بچے استحصال اور ظلم و تشدد کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں کیونکہ وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتے۔

کوئی تھپڑ مار دے تو بچے رو لیتے ہیں اور اگر کوئی ہتھیار اٹھا کر گولی مار دے تو قتل ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں اپنا دفاع کرنا نہیں آتا اور دفاع کیلئے ان کے جسم میں خاطر خواہ طاقت بھی نہیں ہوتی۔ بچوں کو جنگوں میں زخمی اور قتل کیا جاتا ہے، جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اغواء کیا جاتا ہے اور طبی امداد سے محروم بھی رکھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں لاتعداد بچے جاں بحق ہوجاتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ ظلم و ستم کے اعدادوشمار 

حالیہ برسوں میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کے خلاف جرائم میں افسوسناک اضافہ ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق 25 کروڑ بچے ایسے ممالک میں رہتے ہیں جو کسی نہ کسی خانہ جنگی یا بین الاقوامی جنگ کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہیں جبکہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے ہاتھوں بچوں کو ہمیشہ جسمانی و ذہنی خطرات لاحق رہتے ہیں۔

امریکا میں ہر سال 30 لاکھ ایسے جرائم رجسٹر ہوتے ہیں جن میں بچوں کے ساتھ 28 فیصد جسمانی اور 21 فیصد جنسی تشدد کیا جاتا ہے جبکہ باقی ماندہ شرح ذہنی اور دیگر اقسام کے تشدد کی ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت 1 گھنٹے میں 4 بچوں کو جنسی تشدد کا شکار ہوتے دیکھتا ہے جبکہ بھارت میں قانون اور امن و امان کی صورتحال آج کل پاکستان سے بھی بد تر ہے۔

دہلی میں ہونے والےحالیہ فسادات  اور نریندر مودی حکومت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہٹ دھرمی ہمارے سامنے ہے۔ حکومتِ پاکستان کے مہیا کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 10 ماہ میں یعنی 5 اگست سے اب تک بھارتی فوج نے 13 ہزار کشمیری بچوں کو اغواء کر لیا جن کے بارے میں ان کے والدین یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ آج زندہ ہیں یا مر گئے۔

دنیا بھر میں 27 لاکھ 50 ہزار بچوں کو گھریلو تشدد کا سامنا رہتا ہے یعنی یہ تشدد ان کے والدین، بہن بھائی یا قریبی رشتہ دار ان پر کرتے ہیں جبکہ یہ صرف رپورٹ کیے جانے والے کیسز کی تعداد ہے اور ایسے کیسز کا تو ہمیں کچھ پتہ ہی نہیں جو رپورٹ نہیں کیے جاتے۔

حکومتِ پاکستان کے اقدامات

رواں برس فروری کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جانے والا زینب الرٹ بل بے حد سراہا گیا جس کا نام قصور سے تعلق رکھنےو الی زینب نامی بچی کے نام پر رکھا گیا ہے جسے جنسی زیادتی کے بعد قصور میں ہی قتل کردیا گیا جبکہ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا کوئی انوکھا واقعہ نہیں رہا کیونکہ زینب کے بعد پے درپے ایسے ہی متعدد واقعات پیش آتے رہے۔

راولپنڈی میں میاں بیوی نے مل کر ایک 8 سالہ ملازمہ پر تشدد کیا اور اسے مار ڈالا۔ کیونکہ یہ واقعات سوشل میڈیا پر زیادہ اچھلے، اس لیے حکومتِ وقت کو حرکت میں آنا پڑا، تاہم مملکتِ خداداد کا نظامِ عدل کیسا ہے، یہ ہم سب خوب جانتے ہیں۔

حقوقِ اطفال کے تحفظ کیلئے کیا کرنا چاہئے؟

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بچوں کو انسان سمجھا جائے اور انسانیت کی تعلیم عام کی جائے کیونکہ کسی بھی معاشرے میں  بچوں کے حقوق کے استحصال کا مطلب یہ ہے کہ افرادِ معاشرہ میں انسانیت باقی نہیں رہی۔ جو بچے آپ کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے، ان پر ہاتھ اٹھانا ظلم ہی نہیں بلکہ بزدلی بھی ہے۔ معاشرے سے ایسے تمام بزدلوں کو چن چن کر الگ کردیا جانا چاہئے۔

دینِ متین میں جنگ کے دوران بھی خواتین اور بچوں کے حقوق کے استحصال سے روکا گیا، حالانکہ جدید تہذیب بھی یہی کہتی ہے کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ اسلام نے سمجھایا کہ جس میں سب کچھ جائز ہو وہ حق و باطل کی جنگ نہیں ہوسکتی۔ جنگ کا ایک مقصد ہوتا ہے جبکہ ظلم کا مقصد شیطانیت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

اسلام نے سمجھایا کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت کو زوال ہے۔ بچوں کو ظلم و تشدد سے بچانے کیلئے بچوں کو بھی ظالموں سے ہوشیار کرنا ضروری ہے۔ معاشرے کے ہر فرد کو چاہئے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔