ٹویٹر ایلون مسک کے حوالے نہ کیا جائے، امریکی عدالت میں درخواست دائر

ایلون مسک نے ٹوئٹر کی خریداری منسوخ کرنے کا عندیہ دیدیا

دنیا کے امیرترین انسان اور ٹیسلا، اسپیس ایکس اور ٹویٹر کے مالک ایلون مسک کا شمار ان افراد میں کیا جاتا ہے جن کا تنازعات کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ رہتا ہے۔

گزشتہ ماہ مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کو 44 ارب ڈالر میں خرید لیا تھا تاہم اس معاہدے سے جڑے تنازعات اب بھی ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق تنظیموں کے تحفظات کے بعد امریکی ریاست ڈیلویئرمیں ایلون مسک کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ ٹیسلا کے بانی کو 2025 تک ٹویٹر کا مکمل کنٹرول نہ دیا جائے۔

غیرملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق مذکورہ امریکی ریاست کا قانون کسی بھی فرد کو حال ہی میں خریدی گئی کمپنی کا فوری انتظام سنبھالنے سے روکتا ہے۔

 ریاست فلوریڈا کے پینشن فنڈ کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹویٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے فرائض کو درست طریقے سے سرانجام نہیں دیا اور قانونی اخراجات کی تلافی کی۔

 درخواست کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک ایلون مسک کو ٹویٹر کا مکمل انتظام و انصرام دینے کے لیے تین سال کی تاخیر کی جائے جب تک دو تہائی شیئرز ان کی ملکیت کے طور پر منظور نہیں ہوجاتے۔

 امریکی عدالت میں دائر کی گئی اس درخواست کے بارے میں تاحال ٹویٹر اور ایلون مسک کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایلون مسک نے دنیا کے اولین سماجی رابطے کی ویب سائٹ کو 54 ڈالر 20 سینٹ فی شیئرز کے حساب سے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ مجموعی طور یہ رقم 44 ارب ڈالر بنتی ہے جو کہ دنیا کے کئی ممالک کے سالانہ بجٹ سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔

ایلون مسک اور ٹویٹر کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو دنیا میں کسی بھی ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا سودا بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں