مہنگی ایل پی جی فروخت کرکے عوام کو لوٹا اور اب ہڑتال کی دھمکی! گیس کے تاجر آپے سے باہر

تازہ ترین

تازہ ترین

Revelations of Illegal LPG Cylinder and Bowser Manufacturing, OGRA Summons Licensed Companies

ملک میں ایل پی جی کا سنگین بحران اور آسمان کو چھوتی قیمتیں سنگین رخ اختیار کر گئیں جس کے بعد ایل پی جی سیکٹر کی تمام بڑی تنظیموں نے اوگرا اور دیگر ریگولیٹری اداروں کی پالیسیوں کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا بگل بجا دیا ہے۔

آل پاکستان ایل پی جی انڈسٹری نے ملک میں موجودہ سپلائی بحران اور قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار براہِ راست اوگرا کو قرار دیتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر 3 دن کے اندر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پورے ملک میں ایل پی جی کا کاروبار مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

صنعتکار حاجی نعمان احمد کا کہنا تھا کہ اوگرا حکام قیمتوں کے تعین سے متعلق نوٹیفکیشنز میں حکومت کو مکمل اور درست معلومات فراہم نہیں کر رہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ اوگرا کے قیمتوں سے متعلق نوٹیفکیشنز میں صرف مقامی طور پر تیار ہونے والی ایل پی جی کو مدنظر رکھا جاتا ہے جبکہ درآمدی ایل پی جی کی اصل لاگت، حقیقی کھپت اور ٹرانسپورٹ کے زمینی مسائل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

حاجی نعمان احمد کے مطابق کانفرنس کا مقصد حکومت کے سامنے پوری صنعت کا مشترکہ موقف پیش کرنا اور غیر معیاری سلنڈر تیار کرنے والے مینوفیکچررز اور تقسیم کاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنا تھا،کیونکہ ایسے سلنڈر عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

ایل پی جی سے منسلک تاجروں نے اوگرا اور متعلقہ اداروں کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام کے باعث جائز کاروبار کرنے والے افراد کو مشکلات، دباؤ اور غیر ضروری کارروائیوں کا سامنا ہے۔

ایل پی جی ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایران سمیت دیگر ممالک سے درآمد کی جانے والی ایل پی جی طویل فاصلے طے کر کے پاکستان پہنچتی ہے لیکن اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ 8 ہزار روپے کا فریٹ ریٹ صرف مقامی ٹرانسپورٹ کے لیے موزوں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر ڈرائیورز اور گاڑیوں کو بلاوجہ کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آل پاکستان ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے رہنما میاں اجمل نے کہا کہ اوگرا اب بھی 2016 کے فریٹ ریٹس اور تقریباً 10 سال پرانے ڈیلر مارجن کے مطابق نظام چلا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تمام معاملات سے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا جا چکا ہے اور اوگرا کے طریقہ کار میں اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

ایل پی جی کے تاجروں نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی کے باعث ایل پی جی جو تقریباً 250 روپے فی کلو میں فروخت ہونی چاہیے، مارکیٹ میں 500 روپے فی کلو سے زائد قیمت پر دستیاب ہے۔

ایل پی جی صنعت سے وابستہ نمائندوں نے حکومت اور اوگرا کو تین روز کا واضح الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے اور اصلاحات کا آغاز نہ ہوا تو آئندہ ہفتے ملک بھر میں ایل پی جی سیکٹر ہڑتال کرے گا۔

اعلان کے مطابق ہڑتال کی صورت میں تمام ایل پی جی پلانٹس، دکانیں اور ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا جبکہ تاجر برادری احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے گی۔

Related Posts