ہر روز حادثہ، ہر روز لاشیں: کراچی میں ٹینکر اور ڈمپرز کا خونی کھیل، اعدادوشمار سامنے آگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

خونی کھیل
(فوٹو: ڈان)

کراچی میں پانی کے ٹینکرز اور ڈمپرز شہریوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں اور آئے روز مہلک حادثات پیش آ رہے ہیں۔شہر کی مصروف شاہراہوں پر روزانہ کی بنیادوں پر ہونے والے حادثات شہریوں کو خون میں نہلانے لگے جس پر شہری انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق نارتھ ناظم آباد کے رہائشی ماجد نے چند ہی روز قبل اہلیہ اور بچوں کے ساتھ ڈنر کیلئے بائیک پر باہر جانے کی ٹھانی تو سب لوگ خوش تھے۔ نجی بینک میں سکیورٹی گارڈ کی نوکری کرنے والے ماجد بچوں کی فرمائش پر انہیں کھانا کھلانے نکلے تھے تاہم یہ چند لمحات کی خوشی زندگی بھر کے غم میں بدل گئی۔

لیاقت آباد کے علاقے سے گزرتے ہوئے پیچھے سے آنے والے تیزرفتار ڈمپر نے ماجد کی موٹر سائیکل کچل دی جس کے نتیجے میں ماجد کی اہلیہ موقعے پر جاں بحق ہوگئیں جبکہ ماجد اور ان کے معصوم بچے بھی ٹرک کے نیچے پھنس گئے اور بال بال بچے تاہم اس حادثے کے باعث ڈھائی سال سے ساڑھے 6سال تک کے بچے آج بھی اپنی والدہ کو ڈھونڈ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شہر میں پانی کی شدید قلت اور بوسیدہ فراہمی کے نظام کے باعث شہری بڑی تعداد میں واٹر ٹینکرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ٹینکر اور ڈمپر مافیا مزید طاقتور ہو چکا ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ان بھاری گاڑیوں کی وجہ سے روزانہ 4 سے 6 حادثات اور 2 سے 3 اموات ہوتی ہیں، جبکہ سالانہ 1500 سے زائد حادثات میں 600 سے زیادہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر میں 15 ہزار سے زائد ٹینکرز اور ڈمپرز چل رہے ہیں، جن میں سے متعدد کے فٹنس سرٹیفکیٹس اور ڈرائیونگ لائسنس مشکوک یا غیر موجود ہیں۔ ان کے مطابق کمزور نگرانی، قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا اور بھاری گاڑیوں کے لیے مخصوص اوقات اور روٹس نہ ہونے کی وجہ سے شہری مسلسل خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

Related Posts