اسلام آباد: سویڈش مائیگریشن ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ 9 اپریل سے پاکستان میں رہائشی اور ورک پرمٹ کے معاملات کی پروسیسنگ دوبارہ شروع کی جائے گی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ درخواست دہندگان جنہیں بایومیٹرک ڈیٹا فراہم کرنا ہے، اپنے پاسپورٹس کی تصدیق کرانی ہے، یا انٹرویوز کے لیے حاضر ہونا ہے، دوبارہ اسلام آباد میں واقع سویڈش سفارت خانے میں یہ کارروائیاں کر سکیں گے۔
یہ تازہ ترین معلومات ان افراد کے لیے ہے جو کام، تعلیم، یا کسی خاندان کے رکن کے ساتھ شامل ہونے کے لیے سویڈن منتقل ہونے کی درخواست دے رہے ہیں۔
پاکستانی شہری اور پاکستان کے قانونی رہائشی، جنہیں پہلے ہی سویڈش مائیگریشن ایجنسی کی طرف سے یہ اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت کی جا چکی ہے، اب ایتھوپیا کے ادیس ابابا جانے کے بجائے اسلام آباد میں سفارت خانے جا سکتے ہیں جو پہلے ایک ضرورت تھی اور اب ختم کر دی گئی ہے۔
یہ تبدیلیاں اُن افراد پر اثرانداز نہیں ہوں گی جو سویڈن کے لیے مختصر مدتی شینگن ویزوں کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔
وہ درخواست دہندگان جو 90 دن تک کے دورے کے لیے ویزا چاہتے ہیں، انہیں اب بھی اپنی درخواستیں مختلف ایشیائی شہروں جیسے بینکاک، منیلا، جکارتہ، یا کوالالمپور میں جمع کروانی ہوں گی۔
یہ درخواستیں پروسیسنگ کے لیے بینکاک میں واقع سویڈش سفارت خانے کو بھیجی جائیں گی۔
سویڈش مائیگریشن ایجنسی اس وقت پاکستان میں شینجن ویزا خدمات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے اور فیصلہ ہونے پر تازہ ترین معلومات فراہم کرے گی۔