جامعہ کراچی دھماکے کے الزام میں گرفتار طالب علم کو رہا کر دیا گیا

جامعہ کراچی دھماکے کے الزام میں گرفتار طالب علم کو رہا کر دیا گیا

اسلام آباد: سیکیورٹی اداروں نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکے کے الزام میں حراست میں لیے گئے بلوچ طالب علم کو رہا کردیا۔

NUML اسلام آباد میں ساتویں سمسٹر کے طالب علم بیبگار امداد کو 27 اپریل کو سیکیورٹی ایجنسیوں نے پنجاب یونیورسٹی سے حراست میں لیا تھا، جہاں وہ ایک رشتہ دار سے ملنے جا رہا تھا۔

بلوچ کونسل کے کارکنوں نے امداد کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے دفتر کے باہر دھرنا دیا تھا۔ دیگر شہری حقوق کے کارکن بھی طالب علم کی رہائی کے مطالبے میں شامل ہوئے۔ اب انہوں نے رہائی کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس سے قبل امداد کی بازیابی کے لیے ان کے کزن کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ عدالت کی ہدایت پر سٹی پولیس نے طالب علم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی تھی۔

سٹی پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے امداد کو جامعہ کراچی دھماکے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد، بنی گالہ کے علاقے سے نوجوان لڑکی اغوا، باپ نے مقدمہ درج کرادیا

درخواست گزار کے وکیل نے امداد کی گرفتاری اور لاہور سے کراچی منتقلی پر مختلف قانونی سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف گرفتاری بلکہ عدالت سے ٹرانزٹ ریمانڈ کے بغیر ان کی کراچی منتقلی غیر قانونی ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں