کراچی سے ملک کے ٹیکس ریونیو کا 60 فیصد سے زائد جنریٹ ہوتا ہے ، وزیراعلیٰ سندھ

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ پاکستان کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ صوبہ ہے اور کراچی اس کا دارالخلافہ ہے جوکہ ملک کا سب سے بڑا مالی اور تجارتی حب ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں سے ملک کے ٹیکس ریونیو کا 60 فیصد سے زائد جنریٹ ہوتا ہے اور صوبہ میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور یہ ملک کا ایک پاور ہائوس ہے جہاں پر 175 ارب ٹن کے کوئلے کے ذخائر اور ایک وسیع ونڈ کوریڈور ہے جہاں سے 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں : سندھ کابینہ کا اجلاس، ٹرانس جینڈرکیلئے سرکاری اداروں میں 0.5 فیصد نوکریوں کا کوٹا مقرر

انہوں نے یہ بات آج فارن سروس اکیڈمی کے ایک 38 رکنی وفد جوکہ چائنا ، افغانستا ن اور پاکستان کے سفارتکاروں پر مشتمل تھا سے وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ ممتاز شاہ، چیئرپرسن پی اینڈ ڈی ناہید شاہ، آئی جی پولیس ڈاکٹر کلیم امام،وزیر اعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری داخلہ قاضی کبیر، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی شریک تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبہ سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور صوبہ سندھ میں مجموعی طور پر غربت کی شرح 43 فیصداور دیہی علاقوں میں 75.5 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں سالانہ گروتھ 6 تا7 فیصد درکار ہے اور یہاں پرنجی شعبے میں سالانہ 6 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع موثر آتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں ترقیاتی کاموں کی شرح نمایاں ہے اور یہاں پر باہر سے آنے والے انسانی وسائل کی ترقی اور سماجی تحفظ اور غربت میں کمی ہے ۔

کاروبار میں سہولت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہر سال اکتوبر کے آخر میں ورلڈ بینک کی جانب سے ایک انڈیکس شائع ہوتی ہے جس میں مجموعی اعداد وشمار بشمول مختلف پیرامیٹر ز کے ملک میں کاروبار میں سہولت کے حوالے سے تشریح کی جاتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے 2019 کی رپورٹ میں پاکستان کا 190 ممالک میں 136 واں نمبر ہے جوکہ 2018 میں 147 تھا اس طرح 11 درجے بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے کاروبار کو سہل بنانے کے حوالے سے ریگولیٹری ریفارم پر کام کیا ہے جس سے پاکستان کی رینکنگ میں اضافہ ہواہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی اہمیت کے حوالے سے رینکنگ میں 65 فیصد جبکہ لاہور کا 35 فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وفاق کی کراچی پر قبضے کی خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے،مراد علی شاہ

کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے متعلق بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبہ سندھ نے اس حوالے سے مخلصانہ طورپر کاوشیں کی ہیں ۔ایس ای پی اے نے ماحولیاتی چیک لسٹ کا عمل 30 دن سے کم کرکے 15 دن کردیا ہے ۔

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے تجارتی کنیکشن کے لیے مدت 61 دن سے کم کرکے 21 دن کردیئے ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تعمیراتی پرمنٹس کی گرانٹ کا دورانیہ 60 دن سے کم کرکے 30 دن کردیاہے۔

کراچی کا 50 فیصد رجسٹریز کا ریکارڈ ڈیجیٹلائز کردیاگیاہے۔ کراچی میں پراپرٹی رجسٹر کرانے کے لیے درکار وقت 208 دن سے کم کرکے 17 دن کردیاگیاہے ، اس طرح 92فیصد تک کمی ہوئی ہے۔