سندھ حکومت کا چھوٹے کاشتکاروں کوپیپلزہاری کارڈ دینے کا اعلان

Sindh government announces to give People's Card to small farmers

کراچی :سندھ کے وزیر زراعت اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صوبے میں رواں سال چھوٹے کاشتکاروں کیلئے پیپلز ہاری کارڈ لا رہی ہے،پیپلز ہاری کارڈ پرکاشتکاروں کو 3 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔

بدھ کوسندھ اسمبلی بلڈنگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے کہا کہ سبسڈی دینے کے لئے ایک ملین چھوٹے کاشتکاروں کی رجسٹر یشن کرنے جارہے ہیں۔

سبسڈی فرٹیلائزر،یوریا اور ڈی اے پی پر دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت رواں سال صوبے بھر میں 16کولڈ اسٹوریج بنائے گی جس میں 80فیصد حکومت اور 20فیصد کاشتکار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہاکہ تھر سے نکلنے والے نمکین پانی کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے پلانٹ لگائے جائیں گے۔سندھ حکومت صوبے کے کاشتکاروں کے ساتھ ہے۔اسماعیل راہو نے وفاق کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے جمہوریت کا جنازہ اور زراعت کو تباہ کردیا ہے۔

وفاقی حکومت دعوی کرتی ہے کہ زراعت ان کی ترجیح ہے،جی ڈی پی میں زراعت کا شیئر 19 فیصد سے زائد ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق نے زراعت کے شعبے کیلیے صرف12ارب روپے مختص کیے ہیں۔زراعت کے لئے وفاقی بجٹ مجموعی پی ایس ڈی پی کا صرف 1 فیصد ہے۔زراعت ترجیح ہے تو اتنا مختصر بجٹ کیوں رکھا گیاہے۔

انہوں نے کہاکہ ملکی تاریخ میں یوریا کی قیمت میں سب سے زیادہ اس دور میں اضافہ ہوا ہے۔اسماعیل راہو نے کہا کہ ٹریکٹر کی قیمت میں 80 فیصد گندم کے بیج میں 110 فیصد اضافہ ہواہے،زرعی ترقیاتی بینک کے ذریعے قرضہ اسکیم میں سندھ کے صرف ایک فیصد کسان کو شامل کیا جاتا ہے۔ٹڈی دل، قحط اور بارشوں کے دوران وفاقی حکومت نے سندھ کی کوئی مدد نہیں کی۔

محکمہ زراعت سندھ کی 108 اور وفاقی حکومت کی صرف 8 ٹیموں نے ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے کام کیا۔صوبائی وزیرزراعت نے کہا کہ وفاق نے ٹماٹر کی امپورٹ جاری رکھ کر سندھ کی بمپر فصل اور کسان کو نقصان پہنچایا۔

مزید پڑھیں: سندھ حکومت کا تجاوزات آپریشن کے متاثرین کو متبادل پلاٹ دینے کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا کہ کپاس کی 70 لاکھ بیلز ہوئی ہیں۔ایپٹما اور جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق کپاس کی پیداوار56 لاکھ بیلز ہوئی ہے۔

پنجاب میں بھی کپاس کی کاشت اہداف سے کم رہی۔وفاق کی جانب سے پانی بند کرکے سندھ کو پانی بحران سے دو چار کیا گیا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پانی نہ ملنے کی وجہ سے سندھ میں کپاس کی کاشت متاثر ہوئی ہے۔

سندھ میں کپاس لگانے کا صرف 80 فیصد ہدف پورا کرسکے ہیں۔کپاس کی فصل پیدا نہ ہوئی تو 4 ارب ڈالر کی کپاس باہر سے منگوانی پڑے گی۔ وزیرزراعت سندھ نے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ ایکڑ پر چاول کی فصل کاشت کی جاتی ہے۔

پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس سال صرف 8 فیصد چاول کی کاشت کرسکیں ہیں۔اس وقت 20 ارب کی چینی باہر سے منگوائی گئی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ میں 3 لاکھ 10 ہزار گناکاشت کیا گی،جس میں سے پانی نہ ملنے کی وجہ سے 20 فیصد گنا جل گیا۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال 5 سو ملین روپے کی ٹیوب ویل اسکیمیں رکھی گئی ہیں۔کاشتکاروں کو مشینری،سولر ٹیوب ویل دیں گے۔

اسماعیل راہو نے وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ اگر ملک میں 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی زیادہ پیداوار ہوئی ہے تو 40 لاکھ ٹن گندم باہر سے کیوں منگوائی جارہی ہے۔وفاقی حکومت قوم سے جھوٹ بول رہی ہے۔