فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے عسکری ونگ عز الدین القسام بریگیڈ نے غزہ کی پٹی سے حملوں کا آغاز ایک ایسے موقع پر کیا جب ایک طرف اسرائیلی ہر طرف سے بے فکر ہو کر اپنا مذہبی تہوار منانے میں مصروف تھے اور دوسری طرف عربوں کے ذہن میں اکتوبر 1973ءکی عرب اسرائیل جنگ کی یادیں تازہ ہو رہی تھیں۔
تہتر کی اس جنگ میں مصری افواج کو اسرائیل کیخلاف واضح کامیابی ملی اور نہر سوئز کے علاوہ جزیرہ نما سینا کا اچھا خاصا رقبہ اسرائیل کے قبضے سے آزاد کروایا گیا۔
اس جنگ میں بھی مصر کی قیادت میں عرب اتحاد نے اسرائیل پر اقدامی حملہ کیا تھا، جیسے اب حماس نے اقدام (offensive approach) کیا ہے۔ تاہم طویل عرصہ گزرنے کے بعد اب صورتحال بہت مختلف ہے۔ اب اسرائیل علاقے پر مکمل چھایا ہوا ہے، وہ جب چاہتا ہے فلسطینیوں کو تعذیب سے دوچار کرتا ہے اور بھری دنیا میں اسرائیل کا ہاتھ روکنے والا کوئی سامنے آتا ہے اور نہ ہی ”مسلم امہ“ میں سے فلسطینیوں کے ”برادران یوسف“ ان کے آنسو پونچھنے کو میسر ہوتے ہیں۔
ان حالات میں اسرائیل غزہ سے متصل اپنے علاقوں کو آہنی باڑ لگا کر اور ساتھ ہی غزہ کے قریبی علاقوں میں حماس کے راکٹوں اور میزائلوں کو روکنے کا خود کار نظام آئرن ڈوم نصب کرکے اطمینان سے اہل فلسطین پر جبر و ستم کے پہاڑ توڑتا چلا آ رہا تھا۔ اسرائیل کا خیال تھا کہ اس کا دفاع نا قابل تسخیر اور سرحد نا قابل عبور ہے، اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ تمام تر دفاعی اقدامات اور فلسطین کے چپے چپے پراس کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کے نفوذ کے باوجود فلسطینی مزاحمت کار اس کی طاقت و جبروت پر رعشہ طاری کر سکتے ہیں، چنانچہ اسرائیل فلسطینیوں کو کیڑے مکوڑے سمجھ کر اپنے مستقبل کے سیاسی عزائم اور منصوبوں سے انہیں بالکلیہ باہر کرکے خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں محو تھا اور اس سلسلے میں عرب بادشاہ: سعودی عرب تک سے گرین سگنل ملنے کے بعد اس کی خوشی اور مسرت کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔
اسرائیل یہ سوچ رہا تھا کہ اب فلسطین کا درد اس کے سر سے ہمیشہ کیلئے ختم ہونے میں بس دو چار ہاتھ لب بام تک کا فاصلہ رہ گیا ہے، مگر معاملے کو شہباز سے لڑنے کی تب و تاب بخشنے والی ذات کا منصوبہ کچھ اور تھا۔
حاصل کیا برآمد ہوگا، اس سے قطع نظر فی الحال قسام بریگیڈ نے اچانک اقدام کرکے اسرائیل کے ہوش و حواس مختل کر دیے ہیں اور اس کے قا بض اور بزدل شہریوں کے احساس عدم تحفظ میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
دنیا کے سامنے اور خود اسرائیل کیلئے بھی قسام بریگیڈ کا یہ حملہ یقینا اچانک سامنے آیا ہے، تاہم یہ جس طرح کا منظم اور بھرپور وار ہے، اس کے پیش نظر یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ حملہ ایسا بھی اچانک نہیں ہے، یقینا اس کیلئے طویل مدت سے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی گئی ہوگی، اس جنگ کا انجام کیا نکلتا ہے، اس سے قطع نظر اتنا بڑا، منظم، بی بی سی کے مطابق پیچیدہ اور ہمہ گیر حملہ بذات خود فلسطینی مجاہدین کی بڑی کامیابی ہے اور اسے بجا طور پر دنیا بھر کے عسکری ماہرین فلسطینی مجاہدین آزادی کی کامیابی اور اسرائیل کی بدترین انٹیلی جنس ناکامی قرار دے رہے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ مادی طاقت اور عسکری میدان میں یہ چیونٹی اور ہاتھی کا مقابلہ ہے، اسرائیل کی قوت و جبروت، اس کی عسکری طاقت اور جدید سے جدید ترین ہلاکت خیز ہتھیاروں اور پھر عالمی قوتوں کی پشتی بانی کے مقابلے میں ہر طرف سے بے آسرا، بے سہارا اور نہتے فلسطینیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
چنانچہ ظاہری اور عسکری پیمانوں سے دیکھا جائے تو حماس کا وار سراسر خود کشی ہی معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ اسرائیل کی دھاڑ اور اس کے اعلان جنگ، نیز کارروائیوں کے آغاز سے یہی واضح ہے کہ نقصان فلسطینیوں کا ہی ہوگا، ظلم کی چکی کی گرفت اور ستم کا شکنجہ مزید سخت ہوگا، ایسے میں اہل عقل یہی سوال اٹھاتے ہیں کہ حماس نے اس مہم جوئی سے اسرائیل کو اشتعال دلایا ہے اور اسے فلسطینیوں پر مظالم کی شہ دلائی ہے۔
اس سوال پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ قابض، جابر، ظالم اور جارح اسرائیل نے مظلوم فرزندان زمین (اہل فلسطین) پر ظلم و تعدی کے ارتکاب کا سلسلہ کب روکا ہے، جو حماس کی ”گستاخانہ“ جسارت کو اسرائیل کو مظالم پر اکسانے کا جواز دینے کے مترادف سمجھا جائے۔
حقیقت یہی ہے اور خلیجی ریاست قطر نے بھی واضح کیا ہے کہ حماس کے اس حملے کا ذمے دار بھی اسرائیل ہی ہے، حماس نے بظاہر تو اقدام اور بلا اشتعال وار کیا ہے، مگر در حقیقت یہ اسرائیل کی نان اسٹاپ یکطرفہ ظلم و تعدی کا ہی رد عمل ہے۔
حماس کے اس حملے نے ثابت کر دیا ہے کہ فلسطینی اپنے حق سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں ہیں اور وہ کسی صورت طاقت کو ملکیت کے جواز کی سند نہیں مانتے۔ حماس کے اس حملے سے یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ قابض کو کسی صورت مالک نہیں مانا جاسکتا۔ اسرائیل قابض تھا، ہے اور جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں مل جاتا، قابض ہی رہے گا۔
یہ حقیقت ہے کہ فلسطینیوں کے پاس اب کھونے کیلئے سوائے اپنی جان کے کچھ نہیں رہا ہے، ان کیلئے ”اک جان کا زیاں ہے، سو ایسا زیاں نہیں“ کے مترادف اب جان کی بھی ایسی اہمیت نہیں رہی کہ اس کی سلامتی کی فکر میں اپنے حق سے دستبردار ہوں اور عافیت کی تلاش میں قابض کو مالک تسلیم کریں۔
حماس نے اس حملے سے اسرائیل کا سرِ پر غرور خاک آلود کیا ہے، اس کے ناقابل تسخیر ہونے کا پندار توڑا ہے، اس سے مقاومت کی تحریک کے تن مردہ میں اعتماد، حوصلے اور ہمت کی نئی جان پڑے گی اور بے آسرا فلسطینیوں کی مایوسی امید میں بدلے گی۔
یہ طے ہے کہ اسرائیل اپنا دستِ جفا پیشہ اب بھی نہیں روکے گا، تاہم یہ بحث بے معنی ہے کہ اس کے مظالم میں تیزی آئے گی، مظلوم فلسطینیوں کیلئے اس کی اب کوئی اہمیت نہیں رہ گئی، مگر یہ امت مسلمہ کا امتحان ہے، ان مسلم ممالک کو شرم آنی چاہیے جو کسی تیسرے اور لا تعلق فریق کی طرح ”دونوں فریق فوری جنگ بند کریں“ کے بیانات سے اپنی ذمے داریوں سے ہاتھ جھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔