پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا، سندھ سب سے زیادہ متاثر کیوں ہورہا ہے؟

پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا، سندھ کیوں سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے؟

پاکستان کو اس وقت شدید پانی کی قلت کا سامنا ہے جس میں صوبہ پنجاب اور سندھ سرفہرست ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں مارچ کا مہینہ گزشتہ چھ دہائیوں میں گرم ترین رہا، جس کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ گرمی کے باعث شمالی علاقہ جات میں موجود گلیشیئر پگھلنے سے دریاؤں میں پانی کی مقدار میں اضافہ ہوگا، مگر ایسا نہیں ہوا اور ملک کے دریاؤں میں پانی کی قلت مزید بڑھ گئی۔ 

دونوں صوبوں کی پانی طلب کتنی ہے

ارسا کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کی طلب ایک لاکھ پانچ ہزار 500 کیوبک فٹ فی سیکنڈ (کیوسک) ہے، مگر پنجاب کو اس کا تقریباً نصف یعنی صرف 51 ہزار 400 کیوسک پانی فراہم ہوا جبکہ سندھ کی طلب 67 ہزار 100 کیوسک ہے، مگر سندھ کو 32 ہزار 600 کیوسک پانی فراہم کیا گیا۔

پانی کی قلت ایک مستقل وجہ کیوں بن گئی

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چار، پانچ سالوں سے اپریل کے مہینے میں ہی پانی کی قلت پیدا ہوجاتی ہے، جس کے کئی اسباب ہیں، جیسے کم بارشیں اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت کا متوازن نہ رہنا۔

ماہرین کے مطابق رواں سال مارچ میں ریکارڈ درجہ حرارت دیکھا گیا، مگر شمالی علاقہ جات، جہاں گلیشیئر ہیں، وہاں کا درجہ حرارت متوازن نہ رہنے سے گلیشیئر نہیں پگھل رہے اور دریا میں پانی بھی نہیں آرہا۔ سکردو میں ایک دن درجہ حرارت 25 ڈگری سیلسیئس ہوتا ہے تو دوسرے دن 18 اور تیسرے دن 12۔

ماہرین کے مطابق افسوسناک بات یہ ہے کہ اب پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی بھی کوئی جگہ نہیں ہے، پاکستان کے سارے ڈیم دریا کی سلٹ یا مٹی سے بھر چکے ہیں۔ ان ڈیموں میں پانی جمع کرنے کی جتنی گنجائش تھی وہ اب نہیں رہی، یہ ایک اور بڑی وجہ ہے۔

سندھ کو سب سے زیادہ پانی کی قلت کا سامنا کیوں ہے؟

صوبہ سندھ کے کاشت کاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے ملک میں سب سے زیادہ پانی کی قلت کا سامنا سندھ کررہا ہے۔

سندھ کے کاشت کاروں کی تنظیم کے رہنما محمود نواز نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ چشما سے پانی چھوڑنے کے بعد پانی کو گڈو بیراج پہنچنے میں تین دن لگتے ہیں، سکھر بیراج تک آنے میں چار دن اور کوٹڑی بیراج تک آنے میں چھ سے سات دن لگتے ہیں، اور جب یہ پانی نہروں میں چھوڑا جاتا ہے تو کھیتوں تک پہنچنے میں دس دن لگ جاتے ہیں۔ جب ایک پانی فصلوں کو دیا جاتا ہے تو پیچھے سے قلت شروع ہوجاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں نہریں 15 دن بند رہنے کے بعد ایک ہفتے کے لیے کھولی جاتی ہیں۔ اس وقت سندھ کو سرکاری طور پر 51 فیصد پانی کی کمی ہے، مگر سندھ کو نقصان 70 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں تمام فصلوں کی کاشت سب سے پہلے سندھ سے شروع ہوتی ہے اور فصل بھی سب سے پہلے سندھ میں ہی پکتی ہے۔ پورے ملک میں پانی کی قلت اپریل سے شروع ہوئی ہے، مگر سندھ میں پانی کی قلت تو 15 مارچ سے پہلے ہی شروع ہوگئی ہے۔ 

بعدازاں ماہرین کے مطابق پانی کی قلت کی اصل وجہ ریکارڈ طور گرمی اور صحیح وقت پر پانی کا ذخیرہ نہ کرنا ہے۔

سندھ میں پانی کی قلت ملکی معیشیت کو کمزور کرسکتی ہے

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سندھ کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، وفاقی حکومت اس معاملے پر نوٹس لے، سندھ کا ملک کی زرعی معیشت میں اہم کردار ہے، ملک کی معیشت کو پہلے ہی چیلینجز کا سامنا ہے اور پانی کی کمی سے معیشت مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی، پانی کی قلت سے زرعی پیداوار اور پھلوں کے باغات متاثر ہو رہے ہیں، کسان اور آبادگار پریشان ہیں، فصلوں پر لاگت کے خرچے پورے نہیں ہو رہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کو 91ء کے معاہدے کے تحت پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، ملک میں پانی کے ذخائر میں کمی کے باعث قلت کو صوبوں میں پانی فارمولے کے تحت تقسیم کیا جائے۔

مسئلے کا سدباب کیا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے ڈیموں میں پانی کو مناسب حکمت عملی کے ساتھ چھوڑے جانا چاہیے چونکہ کوئی حکمت عملی نہیں بنائی جاتی یہی وجہ ہے کہ وقت پڑنے پر سارے ڈیم خالی ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ابھی بھی فوری اقدامات نہ لئے گئے تو ملک میں پانی کا مسئلہ اور بھی سنگین ہوسکتا ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں