کراچی: سوشل میڈیا پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہے کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت نے مفتی عزیز الرحمان کیس سامنے آنے کے بعد دینی مدارس میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے، تاہم یہ درست نہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عینی نامی ایک خاتون نے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر شیئر کی کہ مفتی عزیز کیس سامنے آنے کے بعدحکومت نے دینی مدارس میں موبائل فونز کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے، تاہم یہ بات بے بنیاد ہے۔
Mobile phones have been banned in madresahs after #muftiazizurrehman case surfaced.
What fresh hell is this @PTIofficial ?!— Qurrat ul Ain Shirazi (@annie_shirazi) June 20, 2021
حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ تاحال حکومت نے مذہبی درسگاہوں یا دینی مدارس میں موبائل فونز کے استعمال پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی جس سے مدارس میں زیرِ تعلیم طلبہ اور علمائے دین کے ذرائع مواصلات کے استعمال پر کوئی ضرب پڑتی ہو۔
قبل ازیں لاہور پولیس نے مفتی عزیز الرحمان کو دینی مدرسے کے طالبِ علم کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں پنجاب کے شہر میانوالی سے گرفتار کر لیا جبکہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سے مفتی عزیز منظرِ عام سے غائب ہوگئے تھے۔
یہ تمام تر الزامات اور مفتی عزیز کیس سوشل میڈیا پر اس وقت وائرل ہوا جب نام نہاد دینی عالم کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر لیک کی گئیں۔ پولیس نے 16 جون کے روز 70 سالہ مفتی کے خلاف نوجوان طالبِ علم کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا۔
اس سے پہلے یہی مفتی عزیز الرحمان جمعیت علمائے اسلام (ف) کیلئے نائب امیر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے جنہوں نے نوجوان طالبِ علم کو کیس منظرِ عام پر لانےسے روکنے کیلئے قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
پولیس نے مفتی عزیز کے بیٹوں عتیق الرحمان اور الطاف الرحمان کو بھی مختلف علاقوں سے گرفتار کر لیا جبکہ تیسرے بیٹے لطیف الرحمان اور دوست عبداللہ کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مار کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
مفتی عزیز کیس کے حوالے سے دیگر بہت سی خبریں درست ہیں جو ایم ایم نیوز سمیت پاکستانی میڈیا پر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں تاہم کیس سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے یا وفاقی حکومت نے موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگا دی، یہ ایک جعلی خبر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی خبر، فواد چوہدری نے سندھ پر گورنر راج نافذ کرنے کا عندیہ نہیں دیا