کراچی سے لاپتہ دعا زہرہ کا نکاح کب ہوا؟نکاح کے گواہان کون تھے؟

کراچی سے لاپتہ دعا زہرہ کا نکاح کب ہوا؟ اس کی عمر کیا لکھوائی گئی؟

 کراچی کےعلاقے ملیر الفلاح سوسائٹی سے لاپتہ ہونے والی دُعا زہرہ لاہور سے مل گئی،اُس نے لاہور کے لڑکے سے نکاح کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق دُعا زہرہ نے لاہور کے علاقے شیر شاہ کے رہائشی ظہیر احمد سے نکاح کرلیا، نکاح نامے میں 14 سالہ دُعا زہرہ کی عمر 18 سال لکھی گئی ہے جبکہ نکاح 17 اپریل کو ہوا۔

نکاح نامے کے مطابق دلہن کی طرف سےکوئی وکیل نہیں، نکاح نامے میں دلہن کو خود مختار لکھا گیا ہے، نکاح نامے میں نکاح کے گواہوں کے نام شبیر احمد اور اصغر علی تحریر ہیں۔

خیال رہے کہ ذرائع کے مطابق نکاح کا پہلا گواہ شبیر احمد شیر شاہ کالونی رائے ونڈ روڈ لاہور کا رہائشی ہے اور ظہیر احمد کا بھائی ہے جبکہ دوسرا گواہ  اصغر علی دیپال پور اوکاڑہ کا رہائشی ہے اور وہ پنجاب یونیوسٹی   میں بطور نائب قاصد کے طور پر  کرتا  ہے بعدازاں اس حوالے سے جب اصغر سے بات کی گئی تو اُس کا کہنا تھا کہ نکاح بغیر کسی زور زبردستی کے ہوا ہے۔

واضح رہے کہ نکاح نامے کے مطابق دعا کا نکاح ایک ہفتہ پہلے 17 اپریل 2022 کو ہوا ہے جبکہ دعا کا حق مہر 50 ہزار روپے رکھا گیا ہے۔

نکاح نامے کے مطابق شادی کے موقع پر دعا کو مہر میں سے 5 ہزار ادا کیے گئے، دعا کا نکاح مزنگ روڈ کے رہائشی نکاح خواں حافظ علی مصطفیٰ نے پڑھایا ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں