جمعیت علمائے اسلام کا واٹربورڈ کیخلاف تاریخ ساز دھرنا مذاکرات کے بعد ختم

جمعیت علمائے اسلام کا واٹربورڈ کیخلاف تاریخ ساز دھرنا مذاکرات کے بعد ختم

کراچی: جمعیت علمائے اسلام شیرشاہ کے زیراہتمام واٹر بورڈ کے خلاف نماز جمعہ کے بعد سے جاری تاریخ ساز دھرنا رات گئے مذاکرات کی کامیابی کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق دھرنے میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ دھرنے میں بچوں کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، جن پر درج تھا کہ شیرشاہ کو حق دو، شیرشاہ کو جینے دو، واٹر بورڈ کی بدمعاشی نامنظور۔

واٹر بورڈ کیخلاف دھرنے سے جمعیت علمائے اسلام شیرشاہ کے امیر مولانا عظیم اللہ عثمان سمیت شیرشاہ کالونی کے ائمہ مساجد نے خطابات کئے۔

دھرنے کے اختتام پر ایم ڈی واٹر بورڈ کی جانب سے بھیجے گئے نمائندوں میں کراچی کے چیف انجینئرز غلام محمد حب، سکندر زرداری اور ایکسئینز شریک تھے۔

پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ضمانت پر مذاکرات کامیاب ہوئے۔ پولیس کی جانب سے ایس ایس پی کیماڑی فدا حسین جانوری کے نمائندہ ایس پی بلدیہ کیپٹن فیضان اور ڈپٹی کمشنر ضلع کیماڑی کے نمائندہ اسسٹنٹ کمشنر فہیم احمد سمیت دیگر لوگ شریک ہوئے۔

مذاکراتی کمیٹی میں جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما قاری محمد عثمان، جے یو آئی شیرشاہ کے امیر مولانا عظیم اللہ عثمان، مختلف جماعتوں کے عزیزالرحمن عزیز، ہدایت الرحمن، مفتی عدنان مدنی، عدالت شاہ، اکبر خان، نعیم ہاشمی سمیت دیگر شامل تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل جامعہ کراچیORIC یہ بھی پڑھیں: کی قائم مقام ڈائریکٹر تعینات

کمیٹی نے واٹربورڈ اور انتظامیہ کے سامنے چند مطالبات رکھے اور یہ طے ہوا کہ اگر ان مطالبات پر ایک ہفتے میں عملدرآمد نہ ہوا تو اگلا دھرنہ شاہراہ فیصل، ایم ڈی واٹر بورڈ کے دفتر اور ڈپٹی کمشنر کیماڑی کے دفتر کے سامنے ہونگے اور تب تک جاری رہیں گے جب تک مطالبات مان نہیں لئے جاتے۔

کمیٹی کی جانب سے جو مطالبات رکھے گئے وہ درج ذیل ہیں۔

1۔ شیرشاہ کالونی کو مین شیرشاہ چوک تا اکبر روڈ مکمل پانی فراہم کیا جائے۔

2۔ گریویٹی کے پانی کو پمپنگ پر کیا جائے۔

3۔ 10انچ اور 9 انچ لائن کو مکمل ریپلیس کیا جائے۔

4۔ موتی والے پمپ کو ہر صورت میں مکمل ختم کیا جائے۔

5۔ SBLسے اکبر روڈ ، محمدی روڈ اور اردو بازار کو کنکشن دیا جائے۔

6۔ حبیب بینک سے شیرشاہ پمپ تک کی لائن میں غیر قانونی کنکشنز ختم کئے جائیں۔

7۔ ناظم آبادکے ٹینک میں پہنچنے والے پانی کی مقدار کو دوگنا کیا جائے۔

8۔ پراچہ پمپ والی گلی میں موجود ڈائنگ کو دیا ہوا غیر قانونی کنکشن منقطع کیا جائے۔

9۔ پراچہ پمپ کے ساتھ بلدیہ کو جانے والے وال کو مکمل بند کیا جائے۔

10۔ نیوی کو پابند کیا جائے کہ صبح 6سے 10 تک چلنے والے پانی میں اپنا کوٹہ وصول کرے۔

11۔ علاقے کی ڈسٹربیوشن لائنوں کو تبدیل کیا جائے۔

کمیٹی کی جانب سے رکھے گئے ان تمام مطالبات کو جائز مانتے ہوئے واٹر بورڈ کے افسران نے فوری طور پر آج رات ہی سے سوک سینٹر سے وال کی چوڑیاں زیادہ کھول کر شیرشاہ کالونی کو پانی فراہم کرنا شروع کیا اور مذاکرات کے دوران ہی شیرشاہ میں پانی چلادیا گیا ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ اگلی میٹنگ تک مسلسل پانی چلتا رہے گا۔

بعدازاں منگل والے روز ایم ڈی واٹر بورڈ، ڈپٹی کمشنر ضلع کیماڑی، ایس ایس پی کیماڑی، قاری محمد عثمان، مذاکراتی ٹیم کی بیٹھک ہوگی جس میں حتمی اعلان کیا جائے گا۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں