بینکوں میں پڑا آپ کا پیسہ خطرے میں؟ سائبر حملوں کے خدشے نے خطرے کی گھنٹی بجادی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛فائل)

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے خودکار سائبر حملوں کے بڑھتے خدشات کے پیش نظر نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے بینکوں، مالیاتی اداروں اور اہم قومی تنصیبات کے تحفظ کے لیے ایڈوائزری جاری کردی ہے جس میں سائبر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق مصنوعی ذہانت، خودکار بوٹس اور جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے بینکنگ نظام کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ سائبر حملہ آور صارفین کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے علاوہ بینک بیلنس میں ردوبدل کرکے غلط مالیاتی معلومات ظاہر کرسکتے ہیں جس سے صارفین میں بے چینی اور مالیاتی نظام پر اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

نیشنل سرٹ نے خبردار کیا ہے کہ سائبر خطرات صرف بینکوں تک محدود نہیں بلکہ ریفائنریز، تیل و گیس کی پائپ لائنز اور بجلی کے نظام سمیت اہم قومی تنصیبات بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔ صنعتی کنٹرول سسٹمز میں مداخلت سے ان تنصیبات کے معمول کے آپریشنز متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

بینکوں کو اہم حفاظتی اقدامات کی ہدایت

نیشنل سرٹ نے بینکوں کو ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن (MFA) نافذ کرنے اور مشکوک ٹرانزیکشنز سمیت غیر معمولی آن لائن سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

ایڈوائزری میں اہم آپریشنل سسٹمز تک براہ راست انٹرنیٹ رسائی محدود کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) و آپریشنل ٹیکنالوجی (OT) کے نیٹ ورکس الگ رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

حکام نے متعلقہ اداروں کو سائبر حملوں سے فوری نمٹنے کے لیے ردعمل کا نظام بہتر بنانے اور کاروباری تسلسل کے منصوبوں کو مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی ممکنہ حملے کی صورت میں اہم خدمات کی فراہمی برقرار رکھی جاسکے۔

Related Posts