شہد کی مکھیوں کا عالمی دن اور انسانیت کی بقاء کیلئے اقدامات کی ضرورت

شہد کی مکھیوں کا عالمی دن اور انسانیت کی بقاء کیلئے اقدامات کی ضرورت

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج شہد کی مکھیوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے جبکہ یہ مکھیاں بقائے انسانی کیلئے لازمی قرار دی گئی ہیں۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ اگر روئے زمین پر شہد کی مکھیاں نہ رہیں تو ہم بھی نہیں رہیں گے۔

عام طور پر شہد کی مکھی کا سب سے بڑا فائدہ اس کی محنت و مشقت سے پیدا ہونے والا شہد سمجھا جاتا ہے۔ بلا شبہ شہد میں اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کی شفاء رکھی ہے لیکن شہد نہ ہو تو انسان اپنی بیماریوں کا علاج دیگر اشیاء میں تلاش کرسکتے ہیں۔

مثال کے طور پر جدید سائنس میں ایلوپیتھک اور ہومیو پیتھک طریقۂ علاج موجود ہیں جن میں زیادہ تر شہد کا استعمال نہیں کیاجاتا۔ اللہ تعالیٰ نے کلونجی میں موت کے سوا ہر بیماری کی شفاء رکھ دی ہے، پھر شہد کے ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ شہد پیدا کرنا ہی شہد کی مکھیوں کا کام نہیں بلکہ وہ ایک اور ایسا کام کرتی ہیں جو اگر نہ کیا جائے تو بقائے انسانی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ خطرہ اتنا شدید ہے کہ عام طور پر عوام الناس کو اس کا علم نہیں ہوتا۔

شہد کی مکھیوں کے عالمی دن کے موقعے پر ہمیں آج یہ سمجھنا ہے کہ ایسی کیا بات ہے کہ شہد کی مکھیوں کو بقائے انسانی کیلئے لازمی قرار دیا جاتا ہے۔آج شہد کی مکھیوں کو کیا خطرات لاحق ہیں اور ان کے بچاؤ کیلئے کیا کیا جاسکتا ہے؟

عالمی دن کی تاریخ 

عالمی ادارے اقوامِ متحدہ کے مطابق شہد کی مکھیوں کے ساتھ ساتھ تتلیوں، چمگادڑوں اور ہمنگ برڈز کو آج روئے زمین سے مٹ جانے کا خطرہ لاحق ہے جو عالمِ انسانیت کی لاپرواہی اور فطرت کے اصولوں کی خلاف ورزی کے باعث ہوا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں یہ شعور اجاگر کرنا آج کے دن کا اہم مقصد ہے کہ شہد کی مکھیوں، تتلیوں، چمگادڑوں اور ہمنگ برڈز کی بقاء ہماری بقاء کیلئے کیوں ضروری ہے، اس لیے 20 مئی کو شہد کی مکھیوں کا عالمی دن منایاجاتا ہے۔

دن منانے کا مقصد

شہد کی مکھیوں کا عالمی دن منانے کا مقصد یہ ہے کہ شہد کی مکھیوں، تتلیوں، چمگادڑوں اور ہمنگ برڈز جیسے پرندوں کو روئے زمین سے مٹ جانے کے خطرے سے بچایا جائے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ترقی یافتہ ممالک کا یہ فرض ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک اور پسماندہ ممالک میں بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کا احساس کریں اور انہیں قحط کے خطرات سے بچائیں۔

کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں مکمل یا جزوی اور اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ ہے جس کے باعث عوام کے کاروبار ختم ہو رہے ہیں۔ ایسے میں خوراک کی کمی سے پودوں اور جانوروں کو لاحق خطرات پہلے سے زیادہ ہوگئے ہیں۔

یہ عالمی دن منانے کا مقصد عوام الناس میں شعور اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ شہد کی مکھیوں سمیت دیگر اقسام کے جانوروں اور پرندوں کے مسائل کو سمجھیں اور ان کا حل تلاش کرنے میں ان کی مدد کریں۔ 

شہد کی مکھیوں کا سب سے اہم کام 

شہد کی مکھیاں شہد اکٹھا کرنے کے لیے مختلف پھولوں اور پودوں کا رس چوستی ہیں۔ یہ رس مختلف مراحل سے گزر کر شہد میں تبدیل ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کی شفاء رکھی ہے۔

یہ مکھیاں شہد حاصل کرنے کیلئے جن مختلف پودوں پر بیٹھتی ہیں ان کے پھولوں سے ایک خاص قسم کے نباتاتی اجزاء شہد کی مکھیوں کے جسم سے چپک جاتے ہیں۔ جب وہ کسی اور پھول پر بیٹھتی ہیں تو یہ اجزاء منتقل ہوجاتے ہیں۔

انسانوں اور جانوروں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے پودوں کے بھی جوڑے بنائے ہیں۔ نر اور مادہ کی تمیز صرف جانوروں میں نہیں ہوتی بلکہ پودے بھی جوڑوں کے ذریعے جنسی عمل سرانجام دیتے ہیں جس سے ان کی نسل آگے بڑھتی ہے۔

سب سے اہم کام جو شہد کی مکھیاں سرانجام دیتی ہیں اسے پولینیشن کہا جاتا ہے یعنی پودوں کے نباتاتی اجزاء کا ایک جگہ سے دوسری جگہ انتقال ، جس سے انسانی زندگی براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔

فرض کیجئے کہ پودوں کی پولینیشن کا یہ عمل خدانخواستہ کسی بھی طرح رک جائے تو انسانوں کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان زندہ ہی نہیں رہ سکتے کیونکہ انسان دو قسم کی خوراک کھاتا ہے جس کا تعلق پودوں سے ہے۔

پودے ہمارے لیے گندم، پھل اور سبزیاں پیدا کرتے ہیں جنہیں کھا کر ہم زندہ رہتے ہیں جبکہ ہماری دوسری خوراک جانوروں کا گوشت ہے جو خود پودوں کو کھا کر زندہ رہتے ہیں یا پھر دوسرے جانوروں کو کھاتے ہیں۔

اگر زمین پر پودوں کی بقاء خطرے میں پڑ گئی ، جیسا کہ پولینیشن کے عمل روکے جانے کی صورت میں ہوسکتا ہے، تو انسانیت کی بقاء بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔

خطرے کا حقیقی احساس

دنیا بھر میں موجود جنگلی پھول اور پودوں کی تقریباً 90 فیصد اقسام مکمل طور پر پولینیشن پر انحصار کرتی ہیں جو جانوروں کا کام ہیں جن میں سب سے پہلا نمبر شہد کی مکھیوں کا ہے، ان کے بعد تتلیاں، چمگادڑ اور ہمنگ برڈ جیسے پرندے ہیں جو پولینیشن کا کام کسی نہ کسی سطح پر کر رہے ہیں۔

اگر خوراک سے منسلک فصلوں کی بات کی جائے تو 75 فیصد سے زائد پھلدار اور خوراک پیدا کرنے والی فصلیں اور 35 فیصد زرعی زمین کی پیداوار کا انحصار پولینیشن کے عمل پر ہے۔ یہ  اعدادوشمار عالمِ انسانیت کو شہد کی مکھیوں کو لاحق خطرات سے خود کو لاحق خطرے کا حقیقی احساس دلانے کے لیے کافی ہیں۔

شہد کی مکھی اور پرندوں کو لاحق خطرات 

شہد کی مکھی کو جن  انسانی سرگرمیوں کے باعث روئے زمین سے مٹ جانے کا خطرہ لاحق ہے، ان میں کاشتکاری کے دوران استعمال کیے جانے والے اسپرے، موبائل فونز کا بے جا استعمال اور برقناطیسی لہریں شامل ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق شہد کی مکھیوں میں ایک ایسی حس ہے جس کے ذریعے وہ دور دراز علاقوں میں جانے کے باوجود شہد کی تلاش ختم ہونے کے بعد اپنے گھر کو صحیح سلامت لوٹ آتی ہیں۔

یہ مخصوص حس برقناطیسی لہروں اور موبائل فون ٹاور کے سگنلز سے بری طرح متاثر ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شہد کی مکھیاں راستہ بھول جاتی ہیں اور کھو کر ہلاک ہوجاتی ہیں۔

پرندوں کو لاحق خطرات میں عمارات میں لگائے گئے شیشے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ پرندے اکثر ایسی عمارات سے ٹکرا کر مر جاتے ہیں جہاں شیشہ اس طرح استعمال کیاجاتا ہے کہ وہ پرندوں کو نظر نہیں آتا۔

مسائل کا تدارک 

اقوامِ متحدہ کے مطابق ہمیں شہد کی مکھیوں اور دیگر پرندوں کی بقاء کیلئے مختلف قسم کے پھول اور پودے سارا سال مختلف مہینوں کے دوران لگانے چاہئیں اور مقامی کسانوں سے شہد خریدنا چاہئے۔

ہمیں مصنوعی طریقۂ زراعت چھوڑ کر فطری طریقہ اپنانا ہوگا۔ کیڑے مار ادویات، جڑی بوٹی مار زہروں اور دیگر ادویات کا استعمال ترک کرنا ہوگا اور جب بھی ممکن ہو شہد کی مکھیوں کے چھتوں کی حفاظت کرنا ہوگی۔

شہد کی مکھیوں کے تحفظ کیلئے پانی کے برتن گھر سے باہر رکھنے ہوں گے جن سے شہد کی مکھیوں کے ساتھ ساتھ پرندے بھی فیضیاب ہوسکیں اور عوام الناس میں شہد کی مکھیوں کے تحفظ کیلئے شعور اجاگر کرنا ہوگا۔