الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بلوچستان میں شدید احتجاج

انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بلوچستان کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث بلوچستان کا دیگر صوبوں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان کے 20 سے زائد مقامات پرانتخابی نتائج میں مبینہ ردوبدل اور دھاندلی کے الزامات پر دھرنے جاری ہیں۔

ریلوے حکام کے مطابق چمن کوئٹہ سیکشن پر ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل ہے۔

بلوچستان کے کئی اضلاع چمن، قلعہ سیف اللہ، پشین،گوادر، زیارت اور نوشکی سمیت دیگر شہروں میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، جے یوآئی اور اے این پی کی جانب سے مختلف مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دھرنے بھی جاری ہیں۔

شدید احتجاج کے باعث بلوچستان بھر میں اجناس، ادویات، سبزیوں اورپھلوں کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، چمن میں ٹماٹر، پیاز اور آلو کا محدود اسٹاک دستیاب ہے، ٹماٹر کی قیمت 500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

بلوچستان کو پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت افغانستان اور ایران سے ملانے والی تمام شاہراہیں بند ہیں۔دھرنوں کے باعث چوتھے روز بھی بین الصوبائی شاہراہیں بلاک ہیں اور 20 سے زائد مقامات پربند ہیں۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں