مہنگائی اور کفایت شعاری

سابق وزیراعظم عمران خان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر اتوار کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں حکومت نے جس تیزی سے مہنگائی میں اضافہ کیا ہے اُس نے عوام کو پریشان کردیا ہے۔ لہٰذا اس بات کی قوی امید کی جاسکتی ہے کہ پی ٹی آئی ایسے حالات کا فائدہ اُٹھانے کی اپنی پوری کوشش کرے گی۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت والی حکومت بار بار یہی کہتی ہے کہ اس طرح کے سخت فیصلے اس لئے کررہے ہیں کیونکہ سابق وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف کے اہداف پورے نہیں کیے تھے۔ لیکن اس بارے میں نہ تو عوام سوچ رہی ہے اور نہ ہی عمران خان۔ جس طرح کے حالات ہیں ایسا امکان بھی کیا جارہا ہے کہ مستقبل میں پیٹرول کی قیمت 300 روپے سے تجاوز کرجائے گی جو کہ عوام کے غصے میں مزید اضافہ کرے گی۔

بجٹ کا سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے اس لیے حکومت آئی ایم ایف کے تمام مطالبات ماننے اور آخرکار انتہائی ضروری قسط وصول کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اقتصادی ٹیم نے معیشت کے استحکام کے لیے آئی ایم ایف ڈیل کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکا سے بھی مدد مانگ لی ہے۔

حکومت اب ایندھن اور بجلی کی کھپت کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات پر غور کررہی ہے۔ اس میں دکانوں، بازاروں، شادی ہالوں اور تمام کاروباروں کی جلد بندش شامل ہے۔ وہ بحران کے درمیان اختراعی اور عجیب و غریب طریقے بھی تلاش کررہے ہیں۔ خیبرپختونخوا نے ایندھن کے اخراجات کم کرنے کے لیے جمعہ کو گھر سے کام کرنے کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایک وفاقی وزیر نے چائے کا استعمال کم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

حکومت چاہتی ہے کہ لوگ اپنے طرز زندگی میں کفایت شعاری کو اپنائیں جبکہ مہنگائی کے مارے لوگ پہلے ہی زندہ رہنے کے لیے ترس رہے ہیں۔ وہ کچھ اقدامات کر سکتے ہیں جیسے کہ اسکول اور کام کے علاوہ غیر ضروری سفر سے گریز کرنا، بڑی گاڑیوں کا استعمال بند کرنا، بجلی کی بچت کرنا، اور درآمدی سامان کی خریداری کی حوصلہ شکنی کرنا۔ تاہم، بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان اور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اشرافیہ اور تاجر برادری کو بھی کفایت شعاری کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ حکومتی وزراء پیٹرول کے علاوہ گیس پر گاڑی نہیں چلاتے اور بائیک سواروں سے ایندھن کا استعمال بند کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔ یہ معاملہ حکومت کی جانب سے اعلان کیے گئے 2000 روپے کی نقد رقم سے بھی حل نہیں ہوگا۔ ایسے وقت میں صرف عوام کو ہی نہیں بلکہ سب کو کفایت شعاری کرنی چاہیے جبھی حالات بہتر ہونگے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں